مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 7
(<) زاہد و عابد مسلمان تو وہ تھا ہی، عبد السلام نو بل تقریبات کے موقعہ پر بڑے فخر کے ساتھ اپنی دونوں بیگمات اور ان کے تمام بچوں کو ساتھ لے آیا۔میں نے اس سے پوچھا: چار بیویاں کیوں نہیں؟ اس نے جواباً کہا کہ دو ہی کافی ہیں۔ساتھ ہی یہ کہا کہ برٹش ٹیکس لاء ایک سے زیادہ شادی پر ٹیکس میں رعایت نہیں دیتا ہے۔ہمارے سویڈش میزبان اس بات پر خوف زدہ تھے کہ سویڈش اخبارات والے اس بات کا پتہ لگا لیں گے اور اس کی ایک سے زیادہ شادی کو مسئلہ بنا کر اچھا لیں گے۔مگر بظاہر ان کو اس بات کا علم ہی نہ ہو سکا اور نہ ہی یہ سوال اٹھ سکا کہ کون سی مسز سلام بادشاہ سویڈن کے ہمراہ سیٹر ہیوں سے نیچے اترے گی۔ہم تینوں نوبل انعام یافتگان کے نام تہجی وار لکھے گئے تھے۔اس لئے میری بیگم جون Joan بادشاہ کے بازؤں میں بازو ڈال کر سیٹر ہیوں سے نیچے اتری۔مگر عبد السلام نے سب کے سامنے ٹوسٹ پیش کیا۔اس تقریب کے موقعہ پر تمام نو بل انعام حاصل کرنے والے روایتی پینگوئین لباس میں ملبوس تھے۔۔مگر عبد السلام اپنے شاہانہ پاکستانی لباس میں ملبوس تھا۔یعنی طرہ دار پگڑی ، ملتے والے جوتے جو شاید الف لیلی ویلی سے لائے گئے تھے۔یہ جوتے بہت ہی تکلیف دہ تھے اور جو نہی تقریب ختم ہوئی سلام نے یہ فوراً اتار دئے۔میری بیگم جون نے ان جوتوں کو بہت ہی پسند کیا اور سلام کو اپنی رائے سے آگاہ کر دیا مگر میری اہلیہ کو اس بات کا علم نہ تھا کہ وہ واپس جا کر بلکل نئے جوتے (اگر چہ تکلیف دہ) یادگار کے طور پر اسے بھیجوا ئیگا۔میں آپ کو یاد دہانی کرادوں کہ جو تقریبات سویڈن میں شروع ہوئیں تھیں وہ سرن (جینوا) میں منتج ہوئیں۔میں نے عبد السلام کو کبھی سگریٹ پیتے یا ڈرنک کرتے یا گالی دیتے نہ دیکھا۔وہ بلا شبہ ایک وضعدار ، اپنے اصولوں پر کار بند خوش اخلاق انسان تھا۔تمام عمر وہ متقی پر ہیز گار مسلمان رہا۔آئیے میں اس تقریر کو اس کے اپنے ہی الفاظ پر ختم کرتا ہوں: قرآن حکیم مومنوں کو تاکید کرتا هے که وہ فطرت کا مطالعہ كريں، اس پر تدبر کریں، اور منتھا ئے مقصود کی تلاش میں عقل کو