مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 6
(Y) دریافت سیسے کے بنے گیند کی طرح پانی میں ڈوب گئی۔(۱) لیکن کچھ ہی عرصہ بعد جیرارڈ ٹی ہونٹ t'Hooft اور ویلٹ مین Veltman نے سلام۔وائن برگ کی ری نار مالائزیشن کی مفروضہ تھیوری کو سچ ثابت کر دکھایا ، (۲) کو ارک کا ثبوت بھی مل گیا (۳) اور ہمارے بہت سارے تجربہ کرنے والے ساتھی سائینسدان جو اس ہال میں موجود ہیں ان پر یہ بات عیاں ہو گئی کہ وہ موعودہ نیوٹرل کرنٹس پر تحقیق کر کے اس کو تلاش کر یں۔با وجود اس کے کہ عبد السلام کئی ایک حیرت انگیز کامیابیوں سے ہمکنار ہو چکا تھا۔وہ الیکٹر د و یک ماڈل سے پیدا ہونے والے وحدت کے نظریہ سے ذرا بھی مطمئن نہ تھا۔برصغیر سے اس کے ساتھی جو گیش پتی کے ساتھ مل کر اس نے سب سے پہلے گیج تھیوری میں تمام ایلی مینٹری پارٹیکلز کی تمام قوتوں کے ہونے کا قابل قبول نظریہ پیش کیا جو موجودہ سٹینڈرڈ ماڈل سے بہت قریب ہے۔اور یہ عبد السلام اور جو گیش پتی ہی تھے جنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لیپٹان کے فورتھ کلر کی اور بھی بروکن سیمٹری ہونی چاہئے۔یعنی (4)SU یا پھر (5)SU۔اور ہم نے جواباً کہا بلاشبہ کیوں نہیں۔نوبل پرائز کی تقریب Did't know Sadat had converted 1929ء میں عبد السلام ، سٹیو وائن برگ اور مجھے سٹاک ہالم سے تار موصول ہوا۔ٹائم میگزین نے سلام کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ وہ پہلا مسلمان ہے جسے نوبل انعام دیا گیا ہے۔سٹیو وائن برگ اور میں نے سلام کو مبارکباد کا ٹیلی گرام دیا اور اس میں یہ بھی لکھا Did y ( یعنی ہمیں معلوم نہیں تھا کہ سادات نے مذہب تبدیل کر لیا ہے )۔حقیقت تو یہ تھی کہ عبد السلام پہلا مسلمان سائینس دان تھا جس نے نوبل انعام جیتا تھا۔اسے اس بات پر جھنجھلا ہٹ ہوتی تھی کہ کوئی اور دوسرا مسلمان کیوں ابھی تک انعام نہیں جیت سکا۔عبد السلام نے اسلامی سائینس میں نشاۃ ثانیہ کو بار بار اپنی تقاریر میں دہرایا۔اور سائینس کے معاملہ میں تنگ نظر رجحان (یعنی تقلید کو ختم کرنے کی تلقین کی۔میرے خیال میں وہ نئی بننے والی یونیورسٹی آف مڈل ایسٹ کا ضرور زیر دست سپورٹر ہوتا۔