مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 118
(IA) پروفیسر اسرار احمد (علی گڑھ) ڈاکٹر سلام کی ساٹھ سالہ برسی پر لکھا گیا سلام کی عظمت کے چار پہلو یقین محکم عمل پیہم، محبت فاتح عالم جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں علامہ اقبال کے اس شعر پر سبھی جھوم اٹھتے ہیں۔لیکن اقبال کے مرد کی شمشیریں ہاتھ میں لے اٹھنے کا حوصلہ بہت کم کو ہوتا ہے۔نوبل انعام یافتہ پروفیسر عبد السلام ان چند جیالوں میں سے ہیں جس نے نہ صرف اس شمشیر کو اٹھایا بلکہ اس سے بھر پور جہاد بھی کیا۔۲۹ جنوری ۱۹۸۶ کو ساٹھ سال پورے ہونے والی ان کی زندگی اقبال کے اوپر مذکورہ شعر کی تفسیر ہے۔ساٹھ سال کا زمانہ کائیناتی پیمانہ پر اس کی حقیقت ایک خفیف ترین وقفہ سے زیادہ نہیں۔البتہ جب یہی زمانہ کسی مرد کامل کے ہاتھوں کائینات کی حقیقتوں پر پڑے ہوئے دبیز پردوں کو اٹھانے ، منشائے تخلیق کی تہ تک پہنچنے اور مخلوق کائینات کے درد کو سمجھنے اور بانٹ لینے میں صرف ہو تو وہ مستقبل کو جذب کر کے ایک لا متناہی حجم اختیا کر لیتا ہے۔وہ جاوداں بن جاتا ہے اور تا ریخ کے اوراق میں ہمیشہ کیلئے نقش ہو جاتا ہے۔عبد السلام ایک ایسا ہی مرد کامل ہے جس نے کائینات کے راز سر بستہ سے سرگوشی کی ، فطرت کی بظاہر مختلف قوتوں کو وحدت کی لڑی میں پرو دیا۔تیسری دنیا کے دکھ درد کو سمجھا، اور اس کے مداوا کیلئے شب و روز ایک کر دیا۔اس طرح انہوں نے اپنی گزشتہ عمر کے ساٹھ سال کو زمانہ مستقبل پر محیط کر دیا۔سطح آب پر کبھی مختلف لہروں کو باہم متصل ہوتے ہوئے دیکھنے کا اتفاق ہوا ہو گا۔عموماً ایسا ہوتا ہے کہ باہم ملنے والی لہروں کے نشیب و فراز کسی خاص ترتیب و نظم یا آہنگ سے نہیں ملتے۔میزاناً ایک لہر کا نشیب دوسرے کے فراز سے مل کر ایک دوسرے کے اثر کو کم کرتا رہتا ہے۔اور سطح آب پر صرف ہلکورے نظر آتے ہیں۔البتہ بعض انتہائی مخصوص حالات میں یہ بھی ممکن ہے کہ ایک خاص مقام پر مختلف لہروں