مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 119
(119) کے فراز ایک خاص ترتیب کے ساتھ ایک دوسرے کو تقویت پہنچاتے ہوئے ملیں۔ایسی صورت میں پانی اپنی نارمل سطح سے کافی اونچا اٹھ کر ایک بڑے فراز کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔عبد السلام کی ابتدائی زندگی حالات کی لہروں کے فرازوں کا باہم مل کر ایک بڑا فراز بن جانے کی مترادف ہے۔انہوں نے ایک ایسے خاندان میں آنکھ کھولی جو علم دوست تھا۔انہیں ایسے والدین ملے جنہوں نے ان کی تعلیم و تربیت میں غیر معمولی دلچسپی لی۔قدرت نے انہیں ایک غیر معمولی ذہن سے نوازا تھا نتیجہ۔۔ان جیسا شاندار تعلیمی ریکارڈ شاید ہی کسی کا ہو۔ہر امتحان میں کامیاب ہونیوالوں میں وہ سر فہرست رہے۔اور بیشتر میں نئے ریکارڈ قائم کئے۔پھر قدرت نے کچھ ایسے حالات پیدا کئے کہ وہ اپنے عزیز و اقارب کی شدید خواہش کے باوجود سول سروس میں نہ جا پائے۔اس طرح ان کی عبقریت بے موت مرتے مرتے بچی۔اتنا ہی نہیں قدرت یہ بھی انتظام کر دیا کہ وہ علوم جدیدہ کے بہترین گہوارے میں زانوئے تلمذ طے کریں۔یعنی اعلیٰ تعلیم کیلئے سکالر شپ کے ایک ایسے فنڈ کا قیام جس سے صرف اور صرف عبد السلام مستفید ہو سکے۔اس طرح حالات کی ہر لہر کا فراز انہیں ان کی موجودہ بلندی کی طرف لے گیا۔گو قدرت نے عبد السلام کی پشت پناہی قدم قدم پر کی۔لیکن یہ سب کچھ اللہ کی سنت کے مطابق ہوا، خدا بھی انہی کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔عبد السلام کی ہر کامیابی کے پیچھے ان کی شب و روز کی محنت لگن اور اپنے مقصد سے جذباتی لگاؤ کا ہاتھ زیادہ ہے۔بنجر زمین اگر وہ قدرت سے عطا کی گئی زرخیزیوں کو اپنے عرق انفعال سے سیراب نہ کرتے ، تو ان بلندیوں کو جن پر وہ آج ہیں چھو پانا ممکن نہ ہوتا۔ایسا نہیں کہ زندگی کے سفر میں انہیں ہمیشہ ہموار راستہ ہی ملا ہو۔ایسا ہونا خلاف فطرت تھا۔ان کی راہ میں کئی ناہمواریاں آئیں۔خصوصاً اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد جب وہ اپنے وطن پاکستان واپس لوٹے اور پنجاب یونیورسٹی میں ریاضی کے پروفیسر کی حیثیت سے کام کرنا شروع کیا۔اس زمانہ میں پاکستان میں کوئی علمی ماحول نہ تھا۔خصوصاً سائینسی علوم کیلئے وہاں کی زمین بلکل بنجر تھی۔عبد السلام نے اس بنجر زمین زرخیز بنانے کی بہت کوشش کی مگر کچھ کامیابی نہ ملی۔انہیں