مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 114
(۱۱۴) الاقوامی مرکز قائم کرنے کا فیصلہ تازہ تھا اور اس کے لئے شمال مشرق اطالیہ کا ما بہ النزاع شہر ٹریسٹ کا انتخاب ہو چکا تھا۔اس مرکز کے قیام میں اٹلی اور سویڈن کی حکومتوں کے علاوہ اقوام متحدہ کا وی آنا میں واقع ادارہ اثر نیشنل اٹامک انرجی ایجنسی مالی طور پر شریک تھا۔دائرہ عمل میں توسیع سلام نے خواہش ظاہر کی کہ میں ہندوستان کے ایٹمی توانائی کمیشن کے ذریعے وہاں آنے کی کوشش کروں۔یہ کوشش ۱۹۷۳ء میں بلکل نئے انداز سے اس وقت بار آور ہوئی جب میں چار برس ہوئے علی گڑھ آچکا تھا۔اور صدی کی آٹھویں دہائی کے شروع میں ٹریسٹ کے مرکز کی سائینٹفک کمیٹی کے صدر منتخب ہو نیوالے فرانس کے نوبل انعام یافتہ آپٹیکل پمپنگ Optical Pumping کے موجد پروفیسر آل فرڈ استلیر کی تجویز پر سلام نے مرکز کے عمل کا دائرہ نظری طبیعات سے بہت وسیع کر کے ایٹمی اور سالماتی طبیعات تک پھیلا دیا تھا۔یہ سننے موضوعات دن بہ دن بڑھتے گئے پہلے ان پر سرگرمیاں جدید ترین تحقیق معلومات مہیا کرنے کی حد تک تھیں۔جن کیلئے دنیا بھر سے ماہروں کو بلایا جاتا رہا پھر پچھلے برسوں سے تجربہ گاہیں قائم ہونے لگیں جن میں ترقی یافتہ ملکوں کی مدد سے ترقی پذیر ملکوں کے محقق اور طالب علم متعین عرصے کے لئے جا کر کام کرنے لگے ہیں۔لیکن اس دوران میرے بھارت آتے آتے ۱۹۶۹ء میں سلام لنج یو نیورسٹی تشریف لے گئے تو وہاں اپنی تقریر سے پہلے مجھے بلا کر بتلایا کہ وہ مجھے امپیرئیل کا لج بلانے کی کوشش کر رہے ہیں ان کے رفیق کار پروفیسر گارٹن نے مجھے ۱۹۶۹ ء اور پھر ۱۹۷۷ء میں پیش کش بھیجی اور مؤخر الذکر سال میں تین مہینے لندن میں رہا۔لیکن میں نے امپرئیل کالج لندن پر مسلم یو نیورسٹی علی گڑھ کی ملازمت (ڈی پارٹمنٹ آف فزکس) کو تر جیح دی۔سلام کے مرکز (یعنی آئی سی ٹی پی) میں ۱۹۷۳ء سے ۱۹۹۰ء تک ایک مہینے یا اس سے زیادہ کے لئے میرا جانا سات بار ہوا۔زیادہ طالب علم کی حیثیت سے لیکن پھر سہ پہر کو کچھ ہلکے پھلکے طالب علمانہ مذاکرے منعقد کرانیکے کام میں بھی مجھے شریک کیا گیا تھا جنہیں لیمپ کا نفرنس کا نام سے یا درکھا جاتا ہے۔