مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 113
(۱۱۳) پروفیسر سعید الظفر چغتائی (علی گڑھ ، انڈیا) حریف سے مرد انگن عشق پروفیسر عبدالسلام سے مجھے پہلی بار نیاز دسمبر ۱۹۶۴ء میں حاصل ہوا۔وہ لندن یو نیورسٹی کے امپیرئیل کالج میں اپنے دفتر سے کالج لا میر میری کی طرف جا رہے تھے اور وہیں کالج کے لمبے چوڑے داخلے کے ہال میں کھڑے کھڑے شاید دس منٹ تک باتیں کرتے رہے۔اس وقت تک وہ جدید طبیعات کے ایک سرخیل کے طور پر مشہور ہو چکے تھے اور یہ بات کہی جاتی تھی کہ ۱۹۵۹ء میں جو نو بل انعام خفیف نیو کلیائی اعمال میں اصول موزونی سے انحراف کے سلسلہ میں پروفیسر لی اور یانگ e & Yang & Lee کو دیا گیا اس کے حصے دار سلام بھی ہو سکتے تھے۔اس وقت تک پروفیسر سلام علوم کی سرحدوں پر ہونے والی تحقیقات کا کئی بار بڑے دل نشین انداز سے سائینس کے عام قارئین کے لئے تعارف بھی کرا چکے تھے۔یہ بات اس لئے اہم ہے کہ عام طور پر ماہرین ان حالات میں جو تعارف لکھتے ہیں وہ غیر ماہروں کی سمجھ میں بلکل نہیں آتے۔تقریباً دو سال پہلے ہندوستان چھوڑنے سے قبل مجھے طبیعات سے ماخوذ فلسفہ سائینس کے بعض موضوعات پر مولانا عبدالباری ندوی کے سوالات پر غور کرنے کا شرف حاصل ہو چکا تھا۔اس وقت مولانا کی عمر ستر سے اوپر تھی اور وہ اپنی تمیں سال پرانی کتاب اسلام اور عقلیت کا دوسرا ایڈیشن تیار کرنے کے لئے جدید طبیعات پر تقریباً ایک درجن عام فہم کتابیں پڑھ چکے تھے۔پروفیسر سلام نے اس موضوع میں دلچسپی لی اور اس اہم گفتگو کو بہت دیر تک یاد رکھا۔یہاں تک کہ دس پندرہ سال بعد جب پیرس یو نیورسٹی نے ان سے میرے بارے میں راز دارانہ رائے مانگی تو سلام کے جواب میں ۱۹۶۴ ء کی اس گفتگو کا تصور جھلک اٹھا۔اس وقت سلام کی تجویز پر اقوام متحدہ کا پس ماندہ ملکوں کے لئے نظریاتی طبیعات کا ایک بین