مقربان الہی کی سرخروئی — Page 43
۴۳ تیرھویں صدی ہجری (۱) حضرت سید احمد صاحب بریلوی رحمۃ اللہ علیہ ( ولادت ۲۰۱ ہجری، شہادت ۱۲۴۶ ہجری - ) (۲) حضرت شاہ اسمعیل شہید رحمتہ اللہ علیہ ( ولادت ۱۹۶ ہجری، شهادت ۱۲۴۶ هجری ) یہ دونوں بزرگ جو مجدد وقت تھے بالا کوٹ کی سرزمین میں آسودۂ خواب ہیں۔مولانا مسعود عالم صاحب ندوی تحریر فرماتے ہیں:۔قریب تھا کہ سارا پنجاب و سر بعد اسلامی نور سے جگہ گانے لگت اور ایک مرتبہ پھر خلافت راشدہ کا عملی نمونہ دنیا کے سامنے آجاتا۔۔۔۔علمائے شور اور قبر پرستوں نے مجاہد ہیں اُنت پر کفر کے فتوے لگائے۔خوا نہیں نے اپنے مرشد اور محسن سے غداری کی نتیجہ یہ ہوا کہ سید شہید نے بالا کوٹ میں جام شہادت نوش فرمایا۔مولانا اسمعیل شہید بھی دلی مراد پاگئے۔۔۔۔ایک طرف ان نفوس قدسیہ کی یہ قربانیاں اور خدا کا ریاں ہیں اور دوسری طرف ہندوستان کے قدرشناس مسلمانوں کی طرف سے تکفیر و تفسیق کا صد سالہ لٹریچر جو بدایوں سے لے کر مدیر اس تک پھیلا یا گیا اور اب تک پھیلایا جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔بر تصیبی یہ ہے کہ بد بختوں نے آج تک اللہ کے ان بندوں کو معاف نہیں کیا۔مشہد بالا کوٹ کو آج سو برس سے اوپر ہو چکے ہیں مگر ان پاک ارواح پر طعن و تشنیع کا سلسلہ جاری ہے۔لہ نے حضرت مولانا اسمعیل شہید پر ایک فتوی : " اس کے گھر میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے اور یہ اس کے ارتداد میں اور اس کے لاڈ گا ڑی کے گھر میں اور ارتداد میں بھی شک و شبہ نہیں ہے۔اور جو اس کے گھر اور ارتداد میں شک کرے وہ کا فر ہے " (کتاب بھونچال برش کی د قال صدا با خود از هفت روزه خورشید ۲۵ فروری ۱۹۳۸م من