مقربان الہی کی سرخروئی — Page 44
۴۴ تفو بر تو اسے چرخ گرداں تفو بالا کوٹ کی تربت میں آرام کرنے والو تم پر اللہ کی رحمت اور سلام ! ہندوستان کی پہلی اسلامی تحریک، صفحہ ۳۸ تا ۴۰ ١٣١هـ شائع کرد مکتبه نشاة ثانیہ حیدر آباد دکن بار { - (۳) حضرت مولوی عبداللہ غزنوی رحمتہ اللہ علیہ (ولادت ۱۲۳۰ ہجری ، وفات ۱۲۹۸ هجری ) آپ زہد و تقویٰ میں بے مثل بزرگ تھے اور توحید و سنت کی تبلیغ اور مشرک و بدعت کی تردید میں شمشیر برہنہ تھے اور اسی لئے رُوح کا فر گری کے ہاتھوں ایک بے عرصے تک مصائب و آلام سے دو چار رہے۔جلا وطن ہوئے۔امیر دوست محمد خان الی کابل کے وقت میں ملا مشکی اور ملا نصر اللہ نے آپ پر کفر کا فتویٰ دیا۔بعد ازاں محمد فضل خالی اور محمداعظم خاں کی مرضی سے علماء نے آپ کو ڈڑے مارنے اور گدھے پر سوار کر کے شہر میں پھرانے کا فتوی صادر کیا۔اس تشہیر اور زدو کوب سے فارغ ہوئے تو آپ کو بیٹوں سمیت قید خانہ میں ڈال دیا گیا مگر آپ زندگی کے آخری سانس تک تقوی کی باریک راہوں پر گامزن رہے اور کتاب و سنت کی تبلیغ کو شعار بنائے رکھا۔تاریخ اہلحدیث از مولانا میرابراہیم سیالکوٹی ص ۲ تا ۴۳) (۴) حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ (ولادت ۱۲۴۸ ہجری، وفات ۱۲۹۷ هجری )۔۔۔۔آپ حضرت شاہ عبد الغنی دہلوی کے شاگرد اور دارالعلوم دیوبند جیسی عظیم الشان دینی و علمی درس گاہ کے بانی تھے۔ہندوؤں اور عیسائیوں سے آپ نے کامیاب مناظرے کئے جس سے پورے بر صغیر میں آپ کی دھوم مچ گئی۔نہایت بلف رپا یہ لڑ پھر آپ نے یا و گار چھوڑا جس میں سے " تحذیر النّاس کا مرتبہ علم کلام کی تاریخ میں نہایت بلند " ہے۔مگر یہی کتاب تکفیر بازی کی جنوں خیز ذہنیت کو مشتعل کرنے کا موجب بن گئی اور اسی