مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل

by Other Authors

Page 53 of 57

مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 53

53 حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس گھر کو بناتے ہوئے جہاں اس کی حفاظت کی دعا کی تھی۔وہاں پہلے اس موعود پیارے اور اس گھر کے حقیقی مالک کے بارے میں خدا سے التجا کی تھی کہ اس کو میری اولاد میں پیدا کر۔دو ہزار سال سے زیادہ عرصہ تک کوئی اس پر حملہ نہیں کرتا۔پھر محرم کے مہینہ میں حملہ ہوتا ہے۔خدا کا قہر حملہ آور کو پکڑتا ہے۔اس کی حکومت کے ساتھ وہ سلطنت جس کے ماتحت وہ تھا وہ بھی آہستہ آہستہ اپنی طاقت کھو دیتی ہے۔کمزور ہو جاتی ہے اور ربیع الاول میں خدا کا محبوب پیدا ہوتا ہے۔یہ اس بات کا نشان ہے کہ جب وہ دنیا میں جلال کے ساتھ ظاہر ہو۔تو کوئی اتنی بڑی حکومت باقی نہ رہے جو اس پر دوبارہ حملہ آور ہو۔ساتھ ہی اس حملہ کا انجام اتنے قریب کے زمانہ میں ہوا کہ اس کی دہشت دیر تک باقی رہی۔اور کعبہ کو آنکھ اُٹھا کر دیکھنے کی بھی کسی کی مجال نہ تھی۔اب اس واقعہ سے آج کے دور کا مقابلہ کریں۔تو حقیقت بہت روشن ہو جاتی ہے کہ اُس زمانہ میں دو طاقتور حکومتیں تھیں اور باقی دنیا کسی نہ کسی طرح اُن کے ماتحت تھی۔آج بھی دوسو پر پاور ہیں۔اور ساری دنیا ان ہی دو بلاک میں بٹی ہوئی ہے، امریکن ، رشین۔اس وقت میرے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے چندہ ماہ پہلے عربوں کی قوت ، ان کے اتحاد کے مرکز کو قیصر ا چھی نگاہ سے نہ دیکھتے تھے۔اس لئے اس کو ختم کر دینا چاہتے تھے۔آج بھی وہ چکر کاٹ کاٹ کر مسلمانوں کو آپس میں لڑوا کر ان کی حکومتوں کو کمزور کرتے کرتے۔ان کے ایمان پر ، ان کی تعلیم پر محمد بن خزاعی اور قیس بن خزاعی جیسے ضمیر فروشوں کی مدد سے حملہ آور ہوتے ہیں۔ان میں سے ایک طاقت کی دلی تمنا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے در کو چھوڑ کر مسیح کے در پر آ