مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 54
54 جائیں۔وہ خانہ خدا کو خیر باد کہہ کر گر جے کے ہو جائیں۔لیکن یہ سب کچھ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک کعبہ موجود ہے۔یہ مرکز ہے، مسلمانوں کا ، اسلام کا، ایمان و اعتقاد کا۔جب اس کے پروانے اس کے گرد جمع ہوتے ہیں تو ان میں کوئی ایرانی و عراقی نہیں ہوتا۔کوئی مصری وفلسطینی نہیں ہوتا۔کوئی عربی و عجمی نہیں ہوتا۔اسی طرح فرقہ واریت بھی اس مرکز پر دم توڑ دیتی ہے۔نہ شیعہ، نہ سنی ، نه دیو بندی، نه بریلوی، ساری طاغوتی قوتیں سلب ہو جاتی ہیں۔صرف ایک جذبہ زندہ رہتا ہے اور وہ ہے خدا کی محبت کا ، اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کا۔سارے دیوانہ وار خدا کو پکارتے ہوئے دوڑتے ہیں۔ان کی آنکھوں سے بے ساختہ آنسو رواں ہوتے ہیں۔ایک تمنا ہوتی ہے کہ اس پاک وجود کے قدموں میں جگہ مل جائے۔وہ دیوانہ وار مکہ کی گلیوں میں گھومتے ہیں اور چشم تصور سے اس نورانی وجود کو دیکھتے ہیں جو یہاں چلتا پھرتا تھا۔اور فدا ہو جانا چاہتے ہیں۔اگر اس وقت کوئی آکر ان دیوانوں کو کہے کہ اس مرکز کو چھوڑ دو۔اس گھر سے جدا ہو جاؤ تو خدا شاہد ہے وہ ایک آواز کے ساتھ اس پر ٹوٹ پڑیں گے۔اسی لئے یہ قو تیں اس مرکز کو ختم کر دینا چاہتی ہیں۔اور آج اُمت محمدیہ کی حالت بالکل ویسی ہی ہے جیسی اس وقت قریش اور عبدالمطلب کی تھی۔لیکن جو خدا کا وعدہ ہے وہ کبھی نہیں مل سکتا۔جس طرح سینکڑوں سال پہلے اس نے اس گھر کی حفاظت کی آج بھی کرے گا۔اور ہر اُس بڑی سے بڑی