مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 52
52 ابرہہ کی کتنی بڑی بدقسمتی کہ کعبہ پر دو ہزار سال سے زائد عرصہ گزرا کسی نے حملہ نہ کیا۔پھر اس کو یہ بتایا بھی گیا تھا کہ تم اس گھر پر حملہ کر کے بچ نہیں سکتے۔لیکن وہ اپنی ضد پر قائم رہا۔ابھی حملہ کرنے کے لئے اس کے لشکر نے قدم بھی نہ اُٹھائے تھے کہ عذاب نے گھیر لیا۔تاریخ ابرہہ کی حالت کے بارے میں کہتی ہے کہ بادشاہ ہونے کی وجہ سے اس نے چند رہنماؤں کو روکے رکھا۔اور بھا گا تو سیدھا صنعاء پہنچ کر دم لیا۔لیکن راستے ہی میں اس پر چیچک کا شدت کے ساتھ حملہ ہوا۔اس کا گوشت گل کر جھڑنے لگا۔اعضاء گرتے رہے۔جب اس کی انگلیاں گرنی شروع ہوئیں تو دیر تک اس میں سے خون اور پیپ بہتا رہتا۔آخر جب وہ اپنے ملک پہنچا تو صرف ہڈیاں اور سر رہ گیا تھا۔سب کچھ گل کر ختم ہو چکا تھا۔آخر وہ اسی عذاب کی تکلیفیں جھیلتا ہوا مر گیا۔ابرہہ کے لشکر کے جو افراد باقی بچے ان میں سے دو کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے مکہ میں دو اندھوں کو بھیک مانگتے دیکھا۔معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ یہ ابرہہ کے ہاتھیوں کے مہاوت گویا خدا تعالیٰ نے بعد میں آنے والوں کے لئے بھی عبرت کے ایسے نشان چھوڑے اور اس واقعہ کو تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیا۔کہ جب تک دنیا قائم ہے۔اگر پھر کسی کو یہ جرات ہوئی کہ وہ اس مقدس گھر کو گرانے کی کوشش کرے تو اس کو ابر ہہ کے انجام سے سبق سیکھنا چاہیئے۔اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ ایک چیز کی وضاحت کرنا چاہتا ہے۔کہ لى تفسير كبير سورة الفيل 2 ابن اسحاق