مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل

by Other Authors

Page 51 of 57

مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 51

51 گھر کا بھی ایک مالک ہے۔وہ خود اس کی حفاظت کرے گا۔جس عمارت کو وہ صرف چار دیوار میں تصور کرتا تھا۔جس کو گرانا مشکل نہ تھا۔جس کی خاطر وہ ہاتھی لایا تھا۔اور حقیقت بھی ہے کہ اس کے قلیس کی شان کے سامنے کعبہ بظاہر صرف چار دیواروں کا ایک چھوٹا کمرہ ہی تو تھا۔نہ اس میں قیمتی لکڑی اور روغن استعمال ہوا تھا۔نہ ہی اس کی سجاوٹ و زیبائش میں سونے چاندی کا کام تھا۔نہ اس کے دروازوں میں ہیرے جواہرات لگے تھے بلکہ بالکل سادہ دیکھنے میں معمولی سی عمارت۔مگر کتنی مضبوط تھی کہ تمام کوشش کے باوجود اس کی طرف بڑھنے سے ہاتھی نے ہی انکار کر دیا۔وہ جانور جو نہ صرف بے زبان بلکہ عقل سے بھی عاری تھا۔اس کو خدائی منشاء سمجھ آ گیا۔مگر ابرہہ انسان ہونے کے با وجود نہ جان سکا۔مگر اب اس پر حقیقت آشکار ہو چکی تھی۔اس کا تکبر اس کا غرور خاک میں مل چکا تھا۔وہ جان چکا تھا۔کہ خدائی عذاب نے اس کو اس کے لشکر کو اور اس کا ساتھ دینے والوں کو پکڑ لیا ہے۔ساتھ ہی وہ اس مقدس گھر کی عظمت سمجھ گیا تھا۔خدا کی حفاظت کا دل سے قائل ہو چکا تھا۔اور یہ بھی جان چکا تھا کہ واقعی اس گھر کا ایک مالک ہے اور اُسی مالک نے اس کی حفاظت کی ہے۔اس گھر کو رب العزت نے اپنے پیارے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسمعیل علیہ السلام کو کہہ کر ایک بار پھر تعمیر کروایا تھا۔ان ہی بنیادوں پر اُٹھایا گیا تھا۔جہاں پرانے نشان تھے۔پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب کے حضور دعا کی تھی۔کہ اے خدا تو اس گھر کی حفاظت کرنا۔اور ساتھ ہی پیشگوئی کر دی کہ اس پر جو بھی حملہ کرے گا وہ تباہ ہو جائے گا۔پھر تاریخ میں آتا ہے کہ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ایک شخص اس پر حملہ آور ہو گا اور برباد ہو جائے گا۔