مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 50
50 اطراف کی وادیوں، صحرا اور جنگل کے مشکل راستوں میں بھٹک گئے۔اور بھوک پیاس اور بیماری سے تڑپ تڑپ کر مرنے لگے۔اب جو لاشوں کے ڈھیر بکھرے ہوئے چیلوں اور گدھوں کو نظر آئے تو وہ ان پر حملہ آور ہو گئے۔اور اُن کے گوشت کو نرم کرنے کے لئے پتھروں پر چیخ چیخ کر کھانا شروع کر دیا۔جہاں سارا گوشت گل گیا وہاں صرف ہڈیاں اور کھال رہ گئی تو دیکھنے میں یوں لگتا تھا جیسے بھوسا ہو۔اور کچھ بھی باقی نہ بچا۔لوگوں کی شکلیں بھی پہچانی نہیں جاتی تھیں۔یہ ایک بہت بڑا ہولناک عذاب تھا۔جس نے ہر اُس انسان کو اپنی گرفت میں لے لیا۔جو کعبہ کو مسمار کرنے کی سازش میں شریک ہوا۔جب عام انسانوں کی یہ حالت ہوئی تو اس شخص کے بارے میں سوچیں۔جس کا یہ منصوبہ تھا۔جو سب کو لے کر چلا تھا۔اس کی حالت تو یقیناً اور بھی خوفناک ہو گی۔اور اس کا وجود عذاب الہی کی گواہی دے رہا ہو گا۔ابرہہ نے اپنی آنکھوں کے سامنے سپاہیوں کو تڑپتے ہوئے دیکھا۔ان کے جسموں سے بہتی ہوئی پیپ اور خون۔گرتے ہوئے اعضاء، ضائع ہوتی ہوئی آنکھیں دیکھیں۔ان کی چیخ و پکار آہ و بکا اس کو مزید خوفزدہ کرنے کے لئے کافی تھی۔وہ بھاگنا چاہتا تھا۔مگر اس کی عقل اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔اتنا بڑا لشکر، اس کے ساتھ جنگی سامان، پھر شان و شوکت سب دیکھتے دیکھتے ختم ہو چکی تھی۔کل حضرت عبدالمطلب اس کو اپنی کمزوری اور بے بسی کے بارے میں بتا رہے تھے۔کہ ہم اتنے بڑے لشکر کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔آج اسی لشکر کے صحت مند جوان بغیر کسی حملہ، بغیر لڑائی کے خود بہ خود زخمیوں، بیماروں میں تبدیل ہو رہے تھے۔جانور مر رہے تھے۔اس کے کانوں میں بار بار یہ آواز آ رہی ہو گی۔کہ اس