مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 46
46 جانوروں کا بھی خیال رکھتے ہیں، اُن کے اُونٹ شاہی سوار لے آئے ہیں۔ان کو بادشاہ سے ملوا دو۔اور کوئی مدد کر سکتے ہوں تو سفارش کر دو۔انہیں حضرت عبدالمطلب کو لے کر شاہی خیمہ کے پاس گیا۔اور دروازے پر کھڑے ہو کر اجازت طلب کرتے ہوئے کہنے لگا۔”حضور یہ مکہ کے رئیس ہیں۔آپ سے ملنے آئے ہیں۔بڑے احسان کرنے والے ہیں۔ان پر التفات فرمائیں۔بادشاہ نے اپنے خادم کی زبانی جو تعریف سنی تو فوراً اجازت دے دی۔حضرت عبدالمطلب نہایت وجیہہ خوبصورت اور لمبے قد کے سُرخ و سفید انسان تھے۔اور حبشہ کے لوگ چھوٹے قد کے ہوتے ہیں۔جب ابرہہ کی نظر آپ پر پڑی تو وہ بہت مرعوب ہوا۔آپ کو دیکھتے ہی کھڑا ہو گیا۔اور آپ کے ساتھ قالین پر نیچے بیٹھ کر ترجمان سے کہا کہ ان کو بتاؤ کہ مجھے ان سے مل کر بہت خوشی ہوئی ہے۔یہ آنے کی وجہ بتا ئیں۔حضرت عبدالمطلب نے کہا کہ آپ کے آدمی میرے دو سو اونٹ لے آئے ہیں وہ واپس کر دیئے جائیں۔یہ سن کر ابرہہ حیران ہو گیا۔کہنے لگا کہ آپ سے مل کر میں بہت متاثر ہوا تھا۔اسی وجہ سے اپنا تخت چھوڑ کر آپ کے ساتھ زمین پر بیٹھ گیا۔آپ کو میں بہت عقل مند اور لائق سمجھتا تھا۔شاید آپ کو معلوم نہیں کہ میں آپ کے مقدس گھر کو گرانے آیا ہوں۔جو آپ کے باپ دادوں سے آپ کا مرکز چلا آ رہا ہے۔نہ صرف آپ کی بلکہ آپ کے آباء واجداد کی عبادت گاہ ہے۔لیکن اُس کی آپ کو کوئی پرواہ نہیں۔صرف اونٹوں کا خیال آیا۔اور اس گھر کو بھول گئے جس سے آپ اور آپ کے باپ دادوں کا دین وابستہ ہے۔حضرت عبدالمطلب نے جواب دیا کہ میں اونٹوں کا مالک ہوں میرے