مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل

by Other Authors

Page 45 of 57

مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 45

45 سادگی سے ساری بات بتادی کہ ہم نے آپس میں مشورہ کر لیا ہے۔ہم اتنے بڑے لشکر سے لڑ ہی نہیں سکتے۔جس کی تعداد میں ہزار ہے۔لیکن اس مقدس گھر کے بارے میں ہمارا ایمان ہے کہ یہ خدا کا گھر ہے۔اس کی حفاظت کا اس نے وعدہ کیا ہے اور ساتھ ہی ہمارا عقیدہ ہے کہ اگر خدا نے اس کو بچانا ہے اور اس کی عزت و احترام کو قائم رکھنا ہے۔تو کوئی طاقت اس کو بر باد نہیں کر سکتی۔اور اگر خدا نہیں چاہتا تو ہم میں ہرگز اتنی طاقت نہیں کہ اس کو بچا ہیں۔یہ سن کر حیاطہ نے کہا کہ آپ میرے ساتھ چلیں اور خود بادشاہ کو بتا دیں۔شاید آپ کی باتیں سُن کر وہ اس ارادہ سے ہی باز آ جائے۔چنانچہ حضرت عبدالمطلب نے سرداروں اور اپنے بیٹوں سے مشورہ کیا۔اور بیٹوں کے ساتھ مغمس کے مقام کی طرف روانہ ہوئے۔مغمس مکہ سے پندرہ سولہ میل کے فاصلے پر ہے۔راستے میں حیاطہ کی زبانی معلوم ہوا کہ ذونفر حمیری سے ابرہہ کی لڑائی ہوئی تھی اور اب وہ اس کی قید میں ہے آپ نے پہلے ذونفر سے ملنے کی خواہش کی۔( تجارت کے لئے آتے جاتے لوگوں سے دوستی ہو جاتی ہے) کیونکہ یہ آپ کا دوست تھا۔جب آپ اس سے ملے تو اس کو ملامت کی۔کہ تجھے کعبہ اور کعبہ والوں کی کوئی پرواہ نہیں۔اس نے کہا میں نے تو مقابلہ بھی کیا مگر کیا کروں اب تو قید ہوں۔لیکن میں اتنا کر سکتا ہوں کہ میری دوستی بادشاہ کے ہاتھی کے مہابت سے ہو گئی ہے۔اور بادشاہ اس کو بہت پیار کرتا ہے۔ہوسکتا ہے کہ وہ شخص کچھ تمہاری مدد کر دے۔اس کا نام انہیں تھا۔ذونفر نے اس کو بلایا اور کہا کہ یہ قریش کے سردار ہیں۔انسان تو کیا