مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل

by Other Authors

Page 47 of 57

مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 47

47 دل میں ان کا درد ہے۔اور ہمارا عقیدہ ہے کہ اس گھر کا مالک بھی ایک ہستی ہے۔جس نے اس کی حفاظت کا وعدہ کیا ہے۔کیا اس کو اپنے گھر کی فکر نہ ہوگی کہ اس کو حملہ سے بچائے؟ دوسرے یہ کہ ہم میں اتنی طاقت ہی نہیں کہ ہم لڑائی کر سکیں۔اب اگر ہم لڑ کر مر بھی جاتے ہیں تو کیا فائدہ۔جس نے اس کی حفاظت کرنی ہے۔وہ ضرور کرے گا۔ہم چاہے نہ لڑیں پھر اگر اس نے بچانا ہے تو ضرور بچائے گا۔لیکن اے بادشاہ اس گھر پر حملہ کر کے تم بیچ نہ سکو گے۔یہ سن کر ابرہہ سکتہ میں آ گیا۔پھر فوراً ہی بولا۔میں دیکھوں گا کہ کون اس گھر کو میرے حملہ سے بچاتا ہے۔حضرت عبدالمطلب اپنے اونٹ لے کر واپس آئے۔آپ بہت اُداس تھے۔مکہ کے لوگوں کو جمع کیا اور بادشاہ کے ارادہ سے آگاہ کیا۔بڑے دُکھ سے کہا کہ ہمارے پاس طاقت نہیں کہ اتنے بڑے لشکر کا مقابلہ کر سکیں۔اس لئے تم لوگوں کو مشورہ ہے کہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر چلے جاؤ۔جوابرہہ نے کرنا ہے وہ کر لے۔اور جو خدا نے کرنا ہے وہ ظاہر ہو جائے۔اس کے بعد ہم پھر مکہ میں آجائیں گی پھر آپ خانہ کعبہ کے پاس آئے۔دل سخت تڑپ رہا تھا اپنی بے بسی پر رونا آ رہا تھا اپنی کم طاقتی پر۔دروازے کے حلقہ کو پکڑا اور بڑے درد سے اپنے خدا کو پکارتے ہوئے کچھ شعر پڑھے جن کا ترجمہ اس طرح ہے تھے۔”اے اللہ جب بندے کے گھر کو کوئی ٹوٹنے آتا ہے تو وہ اس کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہو جاتا ہے۔وہ کسی کو اپنا گھر لوٹنے نہیں دیتا۔چونکہ وہ اس کا گھر ہوتا ہے۔اے رب تو نے لوگوں کو کہا ہے کہ آؤ یہاں عبادت کرو۔میں تجھ۔1 تفسیر کبیر سورة الفيل 2 سیرت النبی ابن ہشام حصہ اول ابن اسحاق