مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 44
44 چڑھاتے مگر ان کی یہ خواہش تھی کہ ہمارے بت کدے کا مقام کعبہ کی طرح ہو۔چنانچہ انہوں نے بھی ابرہہ کا ساتھ دیا کہ جب یہ خانہ کعبہ کو گرا دے گا۔تو ہمارے بت کدے کا مقام بڑھ جائے گا۔انہوں نے ابورغال نامی آدمی کو راہنمائی کے لئے لشکر کے ساتھ کر دیا۔جب لشکر مغمس نامی جگہ پہنچا تو ابورغال کا انتقال ہو گیا۔شاید اس شخص پر کعبہ کے ساتھ غداری کا خوف ہو۔جس سے وہ مر گیا۔مغمس کے مقام پر پہنچ کر ابرہہ نے اسود بن مقصود کو کچھ فوج دے کر مکہ کی سمت روانہ کیا۔کہ وہاں کا حال معلوم کرے۔جب یہ شخص ضروری معلومات حاصل کر چکا تو واپسی پر وادی میں چرتے ہوئے جانوروں کو بھی لے آیا۔ان میں اُونٹ کثرت سے تھے۔ان اونٹوں میں دوسو اونٹ حضرت عبد المطلب سردار قریش کے بھی تھے۔جب اس طرح جانور غائب ہوئے تو مکہ والوں کو یقین ہو گیا کہ حملہ ہونے والا ہے۔مکہ میں بسنے والے قبائل کنانہ ھذیل اور قریش کے بڑے بڑے سرداروں نے مل کر غور شروع کیا کہ اب کیا کیا جائے۔سب کی متفقہ رائے تھی کہ اتنے بڑے لشکر سے لڑائی ممکن نہیں۔ادھر ابرہہ نے اپنا ایک خاص آدمی حیاطہ جو حمیری قبیلہ سے تھا۔مکہ والوں کے پاس بھیجا۔اس نے دریافت کیا کہ قبیلہ کا سردار کون ہے۔بتایا گیا عبدالمطلب۔وہ حضرت عبدالمطلب کے پاس گیا اور ابرہہ کا پیغام دیا کہ ” میں صرف خانہ کعبہ کو گرانا چاہتا ہوں۔مکہ کے لوگوں کو تکلیف دینا میرا مقصد نہیں۔اور نہ ہی تم لوگوں سے میری دشمنی ہے۔اس لئے تم لوگ اپنی جانیں ضائع نہ کرو۔بلکہ ایک طرف ہو جاؤ۔اور کعبہ کو گرانے دو“۔حضرت عبدالمطلب نے کہا کہ لڑنے کی ہماری بھی نیت نہیں۔اور بڑی