مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 43
43 کبھی بھی قلیس کی عظمت کو قائم نہیں ہونے دے گی۔کعبہ کو گراؤ تا کہ قلیس کی شان بڑھے۔اس نے ایک روایت کے مطابق میں ہزار کا لشکر لیا۔اس میں 9 ہاتھی تھے۔جو ہاتھیوں کا سردار ہاتھی تھا اس کا نام محمود تھا۔اس پر ابر ہ سوار تھا۔اب وہ مکہ کی طرف روانہ ہوا۔اس کی آمد کی خبر جنگل کی آگ کی طرح سارے عرب میں پھیل گئی۔اور عربوں میں ایک جوش ایک ولولہ پیدا ہوا۔ادھر ذونفر حمیری نامی ایک شخص نے اس جوش کو اور بھڑ کا یا۔جس کی وجہ سے عرب کے بعض قبائل اس کے جھنڈے تلے جمع ہونے لگے۔جو نہی ابرہہ کا لشکر صنعاء سے نکلا اس کی مڈ بھیڑ ذونفر حمیری کی فوج سے ہو گئی۔یہ اس کی بھاری قوت سے مقابلہ نہ کر سکے اور ہار گئے۔ذونفر قید ہوا۔جب اس کو قتل کیا جانے لگا تو اس نے کہا کہ مجھے جان سے نہ مارو بلکہ قید کر لو۔شاید میں کسی کام آ سکوں۔ابرہہ نے اس کی پیش کش کو قبول کر لیا۔جب وہ شمال کی طرف بڑھتے بڑھتے قبیلہ خشم کے علاقہ میں پہنچا۔تو ایک اور بڑا لشکر اس کا منتظر تھا۔جس کا لیڈر نفیل بن حبیب تھا۔یہ بھی اس طاقتور فوج کا مقابلہ نہ کر سکے۔آخر نفیل قید ہوا۔اس نے بھی ذونفر والی بات کی کہ مجھے زندہ رکھو۔میں تمہارے بہت کام آؤں گا۔غرض ابرہہ نے اس کو بھی قید کر لیا۔جب ابرہہ بڑھتے بڑھتے طائف پہنچا۔تو وہاں کے سردار مسعود بن معتب نے مقابلہ کرنے کی بجائے اس کا استقبال کیا۔اس کی وجہ تاریخ میں آتی ہے کہ طائف والوں کا بُت لات تھا۔جسے انہوں نے ایک بت کدے میں نصب کیا ہوا تھا۔حالانکہ طائف کے لوگ بھی کعبہ کا طواف کرتے۔اس پر چڑھاوے 1 تفسير كبير سورة الفيل