مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 28
28 کہاں ہے۔اس کی پہچان کیا ہے۔کون سی جگہ کو کھودا جائے۔اور حقیقت بھی یہی تھی کہ حضرت عبدالمطلب بھی ابھی تک پوری طرح سمجھ نہیں پائے تھے کہ کس کے بارے میں کہا جا رہا ہے۔آخر جب وہ چوتھے دن ان ہی خیالات میں کھوئے ہوئے سوئے تو پھر وہ آدمی آ گیا۔اور بولا زمزم کو کھودو۔انہوں نے پھر پوچھا کہ زمزم کیا چیز ہے۔اس سوال پر وہ شخص غائب نہیں ہوا۔بلکہ اس نے تفصیل سے بتایا کہ زمزم وہ چشمہ ہے جو کبھی نہیں سوکھے گا۔نہ ہی اس کا پانی کم ہو گا۔بلکہ وہ کعبہ کے طواف کے لئے آنے والے حاجیوں کے گروہوں کو سیراب کرے گا۔خواب میں ہی حضرت عبدالمطلب سمجھ گئے کہ اُسی مقدس چشمہ کے بارے میں بتایا جا رہا ہے۔لیکن یہ تو بتایا نہیں کہ وہ کہاں ہے۔اتنے میں پھر اُسی شخص نے کہنا شروع کر دیا۔کہ لید اور خون کے درمیان غراب اعصم لے کے پاس چیونٹیوں کی بستی کے قریب ہے تھے۔آپ اُٹھے تو آپ کو اطمینان تھا۔کیونکہ خدائے ربّ العزت نے کھول کر وضاحت کر دی تھی۔اس جگہ کی نشاندہی کر دی تھی کہ کہاں گھدائی کرنی ہے۔ایک اور روایت میں ہے کہ بتایا گیا۔چیونٹیوں کے گھر کے پاس جہاں کل کو اچونچ مارے گائے۔ان تمام باتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ جب خدا کی مرضی ہوتی ہے یا جس کام کے لئے جس مقصد کے لئے جو وقت مقرر ہوتا ہے۔اس وقت خدا ایسے انسانوں کو بھی پیدا کرتا ہے جن کو وہ بتا سکے اور جن سے کام لے سکے۔چنانچہ ایسا 1 چشمہ زمزم 2 ایسا کو ا جس کے پروں کی نوک سفید ہوتی ہے۔3 سیرۃ النبی ابن ہشام جلد اوّل صفحہ 170