مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 4
عرض حال آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق بزرگوں سے ورثہ میں پایا۔یہ ورثہ آئندہ نسلوں میں منتقل کرنے کی خواہش تھی۔مگر فن تحریر سے نا آشنائی مانع رہی۔مطالعے کے شوق میں عیسائی مشنریوں کی طبع کردہ ایسی کتب میری نظر سے گزریں جن میں قابلِ احترام حضرت عیسی علیہ السلام کے مرتبے کو مبالغہ آمیز بیانات سے وراء الوراء ہستی کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔سیرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر لکھنے کا شوق تڑپ بن گیا اور تڑپ کا اظہار خوبی اسلوب کا محتاج نہیں ہوتا۔اب میرا مقصد اولین اُس عظیم الشان انسان کی زندگی سے دنیا کو روشناس کرانا ہے تا کہ دنیا جان لے کہ عظمت کس کا مقدر ہے کون خدا کوسب سے پیارا ہے۔کس کے ہاتھ پر ایک مردہ عالم زندہ ہوا۔کس کی زندگی تمام خوبیوں کی جامع ہے۔کس کے لئے ابراہیمی دعا اس رنگ میں پوری ہوئی کہ کعبتہ اللہ کی حفاظت کے الہی سامان ہوئے۔کعبہ کے محافظ کمزور ہو سکتے ہیں مگر کوئی بدفطرت کعبہ پر میلی نظر ڈالے تو خدائی جلال عظمت محمدی کی خاطر قہری بجلی بن کر نازل ہوتا ہے۔اس کتاب میں ظہور محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی نشانیوں میں سے چشمہ زمزم کی کہانی بھی ہے۔بعثت نبوی کے وقت یہودیت کے چشمے خشک ہو گئے تھے۔نصرانیت کے کنوؤں کا پانی زمین کے سینے میں اتر گیا تھا۔مجوسی اور صابی افراد کے جو ہر خالی تھے۔لامذہبیت نے ہر بھلی قدر کو چاٹ لیا تھا۔اس تشنہ لبی کے عالم میں آسمانی بارش برسنے کی نوید کا ذوقی نشان چشمہ