مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 39
39 یمن کا واحد حکمران تھا۔جب شاہ نجاشی کو اس واقعہ کا علم ہوا۔تو اُسے سخت دُکھ پہنچا کہ ان دونوں جرنیلوں نے کیا کیا۔اس نے قسم کھائی کہ اریاط کا بدلہ ابر ہ سے لیا جائے گا۔اس زمانہ میں جب کسی کو ذلیل کرنا ہوتا تو اس کی پیشانی کے بال کھینچے جاتے تھے۔چنانچہ اس نے اعلان کیا کہ ابرہہ کے بال کٹوا کر اس کے ملک میں پیروں تلے روند ڈالوں گا۔جب یہ خبر ابرہہ کو ملی۔تو اس نے اپنے سر کے بال کٹوائے اور یمن کی مٹی سے بوری بھر کر بادشاہ کی خدمت میں دونوں چیزیں بھیج دیں۔ساتھ ہی کہلوایا۔کہ آپ کے ارشاد کے مطابق بال بھی حاضر ہیں اور مٹی بھی۔جو چاہے سلوک ان سے کیا جائے۔میں اپنے اس فعل پر شرمندہ ہوں۔مگر قصور ہم دونوں کا تھا۔اگر میں مارا جاتا۔تو وہ حاکم ہوتا۔اب جو ہونا تھا ہو گیا۔وہ بھی آپ کا غلام تھا اور میں بھی۔اس لئے اس غلام کو معاف کر دیا جائے۔یہ ہمیشہ آپ کا مطیع اور فرمانبردار رہے گا“ کے شاہ نجاشی کے بارے میں تاریخ میں لکھا ہے کہ وہ فطرتا نیک اور شریف آدمی تھا۔اس نے ابرہہ کو معاف کر دیا۔اور کہا کہ ہم تم کو یمن کا گورنر مقرر کرتے ہیں۔اس خبر کے ملنے پر ابرہہ نے خوشی کے اظہار اور عقیدت کے لئے فیصلہ کیا کہ وہ یمن میں ایک شاندار گر جا بنائے گا۔اُس نے گر جا بنانے کے لئے دُور دُور سے انجینئر بلوائے۔قیمتی لکڑی اور بہترین رنگساز جمع کئے۔جنہوں نے ایک انتہائی بلند اور عالی شان گرجا کی تکمیل کی۔یہ گرجا اتنا بلند تھا کہ جب اس کو دیکھا جاتا تو ٹوپی گر جاتی تھی۔اس لى سيرة النبي ابن ہشام صفحہ 70 تفسیر کبیر، جلد دہم ،سورۃ الفیل