مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 38
حصہ شام میں گزارتا تھا۔38 جب یہ عیسائی دوس تعلبان ملک شام میں قیصر کے پاس فریاد لے کر گیا۔تو اس نے حبشہ کے بادشاہ کو خط لکھ کر دیا کہ عیسائیوں کے قتل کا بدلہ لو۔اس زمانہ میں حبشہ کے بادشاہ نجاشی کہلاتے تھے۔شاہ نجاشی نے دو جرنیلوں اریاط اور ابرہہ بن الصباح کی نگرانی میں یمن پر فوج کشی کے لئے لشکر بھجوائے۔جب یہ لشکر یمن پہنچا۔تو اس نے حمیری بادشاہ پر حملہ کر دیا۔بڑے زور کی لڑائی کے بعد یمن کی حکومت کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا وہاں عیسائی جبش حکومت قائم ہو گئی۔کچھ عرصہ کے بعد اریاط اور ابرہہ میں اختلاف پیدا ہو گیا۔کوشش کے با وجود صلح نہ ہوئی۔اور دونوں جنگ پر آمادہ ہو گئے۔لیکن ابھی ان میں قومی غیرت باقی تھی۔اس لئے خیال پیدا ہوا کہ لڑائی آپس کی ہے۔بلا وجہ فوج کو ٹکرا کر جانیں کیوں ضائع کریں۔پھر اس لڑائی کے نتیجہ میں نجاشی کی حکومت بھی کمزور ہوگی۔اور دشمن کو فائدہ پہنچے گا۔چنانچہ دونوں نے آپس میں مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔اس طرح کہ جو دوسرے کو مار دے وہ فاتح ہو گا اور حکومت کا حق دار بھی۔اس طرح ابر ہہ اور اریاط ایک دوسرے کے سامنے ڈٹ گئے۔اریاط نے نہایت چابک دستی سے ابرہہ کے سر پر وار کرنا چاہا۔مگر وہ اس کے چہرے پر پڑا۔جس کی وجہ سے اس کے چہرے کا ایک حصہ یعنی گال اور ناک بری طرح زخمی ہو گئے۔اس دوران ابرہہ کے غلام نے اپنے آقا کی محبت کی وجہ سے پیچھے سے اریاط پر خنجر سے وار کیا اور اس کو ڈھیر کر دیا۔ابرہہ کے زخم بہت گہرے تھے جو آہستہ آہستہ ٹھیک ہونے لگے۔لیکن چہرہ ہمیشہ کے لئے بگڑ گیا۔اسی وجہ سے اس کا نام ابرہہ الاشرم پڑ گیا۔اب وہ