مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 40
40 وجہ سے عربوں نے اس کا نام قلیس رکھ دیا۔عربی میں کلاہ کو قلنسوہ کہتے ہیں۔ابرہہ نے گرجا بنانے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ عرب خانہ کعبہ چھوڑ کر اس عالیشان گرجا کی پرستش کریں۔اپنی اس تمنا کا اظہار اس نے شاہ نجاشی سے بھی کر دیا۔جب عرب کے لوگوں کو ابرہہ کی خواہش کے بارے میں پتہ چلا۔تو وہ بھڑک اُٹھے۔کہ یہ کیا بات ہوئی۔مانا کہ اس نے اپنے گرجے کو خوبصورت بنایا ہے۔اس میں قیمتی لکڑی کثرت سے استعمال ہوئی ہے۔رنگ اور روغن کا کام بھی اچھا ہے۔پھر وہ اونچا بھی بہت ہے مگر اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ ہم اس مقدس گھر سے منہ موڑ لیں۔یہ گھر ہمارے آباء و اجداد کی قربانیوں کی نشانی ہے۔ہماری قوم کے اتحاد کا مرکز ہے۔اس کے علاوہ اس گھر سے بہت سی عظمتیں اور برکتیں بھی تو وابستہ ہیں۔پھر ہم کیسے اس کو چھوڑ سکتے ہیں۔اس طرح تو خانہ کعبہ کی عظمت پر حرف آئے گا۔یہ کوئی پہلا گر جانہیں بنا کہ سب اس کی طرف متوجہ ہو جائیں۔دنیا میں تو ہزاروں گرجے تھے۔ایسے سینیا میں بھی تو اس سے بڑے اس سے زیادہ عالیشان گرجے تھے۔پھر یمن تو اس کے ماتحت تھا۔رومن حکومت جو قیصر کی سلطنت کہلاتی تھی۔بہت طاقتور اور مضبوط تھی۔اس میں بھی ہزاروں گرجے تھے۔حبشہ بھی اس کے ماتحت تھا۔مگر اس نے کبھی کوشش نہیں کی کہ عرب خانہ کعبہ کو چھوڑ دیں۔آخر اس میں راز کیا ہے؟ جب عرب قبائل کے سرداروں نے غور کیا تو اُن کی سمجھ میں آ گیا کہ یہ خانہ کعبہ کی ہتک ہے۔اس طرح وہ عربوں کے اتحاد و اتفاق کو برباد کرنا چاہتے ہیں پھر تو وہ جوش میں آگئے۔وہ سب کچھ برداشت کر سکتے تھے۔مگر خانہ کعبہ کی 1 طبقات ابن سعد حصہ اوّل