مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 37
37 اصحاب فیل ہمارے پیارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے پہلے کی بات ہے ملک یمن پر ذونواس حمیری بادشاہ حکومت کرتا تھا۔یہ یہودی مذہب سے تعلق رکھتا تھا اور عیسائیوں کا دشمن۔ایک دفعہ اس کو بے پناہ غصہ آیا۔جس کی وجہ سے اس نے اپنے ملک کے بیس ہزار عیسائیوں کو گرفتار کر لیا۔اور خندقوں میں ڈال کر زندہ جلا دیا۔ان میں سے ایک شخص دوس ثعلبان بیچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا اور بچتا بچاتا قیصر روم کے پاس پہنچا۔وہاں جا کر تمام احوال سنایا اور فریاد کی کہ اس قتل عام اور ظلم کا بدلہ لیا جائے۔قیصر خود عیسائی تھا اس لئے اُسے بہت غصہ آیا۔اس زمانہ میں دو حکومتیں بڑی مشہور تھیں۔اور بہت طاقتور۔ان کے قبضہ میں دُنیا کے بیشتر حصے تھے اور بعض حصوں پر ان کی براہِ راست حکومت نہیں تھی۔مگر ان کی قوت کی وجہ سے وہ ان کے اطاعت گزار تھے۔نمبر ایک روم کی حکومت جس کے بادشاہ قیصر کہلاتے تھے۔دوسری ایران کی جو کسریٰ کی حکومت کہلاتی تھی۔جیسے آج کل روس اور امریکہ ہیں۔اور دنیا کے بیشتر ملک اور قومیں ان کی طاقت کی وجہ سے ان کی اطاعت کرتی ہیں۔بالکل ایسا ہی اُس وقت بھی تھا۔ان دونوں حکومتوں یعنی قیصر و کسریٰ کی اکثر لڑائی رہتی تھی جیسے آج کل بھی امریکہ اور روس میں ناراضگی چلتی رہتی ہے۔ان لڑائیوں کی وجہ سے قیصر روم سال کا زیادہ