مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل

by Other Authors

Page 15 of 57

مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 15

15 کو تو بیان کرنا مشکل ہی ہے کہ ایک باپ کس طرح اپنے سب سے پیارے کو قربان کر دے۔مگر سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ ایک جوان بچہ کیسے بلا چون و چرا باپ کے ساتھ ذبح ہونے جا رہا ہے۔اس کو کوئی خوف ، کوئی ڈر نہیں۔جان کی پرواہ نہ تکلیف کا احساس۔انہوں نے ایک بار بھی تو اپنے باپ کو نہیں روکا۔بلکہ خوشی خوشی رواں دواں تھے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت عبدالمطلب کو روکنے کا انتظام کیا۔کیونکہ خدا کا یہ مقصد تو نہیں تھا کہ سچ سچ انسان کو ذبح کر دیا جائے۔بلکہ اس کا منشا تو کچھ اور بتانا تھا۔جب قریش کے رئیسوں کو علم ہوا تو انہوں نے حضرت عبدالمطلب کو اپنے بیٹے کو قربان کرنے سے روکا۔ایک جاننے والے نے مشورہ دیا کہ انسان کو قربان کرنا درست نہیں۔تم عبداللہ کے بدلے دس اونٹ قربان کر دو۔اس زمانے میں ایک انسان کا خون بہا دس اونٹ تھالیے۔(خون بہا اس کو کہتے ہیں کہ اگر کسی کو کوئی قتل کر دے تو اصولی طور پر قاتل کو بھی مار دیا جاتا ہے۔لیکن اگر اس کے رشتہ دار راضی ہو جائیں تو انسان کے بدلے کچھ رقم یا سامان دے کر انسان کو بچایا جاسکتا ہے۔) عبداللہ کے بدلے دس اونٹ قربان کرنے کی بات حضرت عبدالمطلب کے دل کو لگی۔لیکن انہوں نے پھر قرعہ ڈال کر خدا سے پوچھا۔کہ دس اونٹ منظور ہیں یا عبداللہ ہی لینا ہے قرعہ عبداللہ کے نام نکلا۔لوگوں نے کہا کہ اونٹوں کی تعداد بڑھا دو۔اس طرح دس سے میں ہوئی۔پھر عبداللہ کا نام۔پھر تمھیں پھر چالیس لیکن ہر بارعبداللہ ہی خدا کو پیارا تھا۔کیونکہ جو خدا کا ہے اُس کی اتنی قیمت نہیں ہو سکتی اور بڑھاؤ ، اور بڑھاؤ۔1۔ابن سعد حصہ اول ذکر نذر عبدالمطلب