مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 14
14 ہے۔اس لئے ابھی سے اپنے ذہنوں کو تیار کرو۔وقت آنے پر بھول نہ جانا۔اور ساتھ ہی خدا تعالیٰ ایک بار پھر اٹھائیس سو سال پرانا واقعہ بھی یاد دلانا چاہتا تھا۔اسمعیل علیہ السلام کی اولا د تو بہت قبیلوں، خاندانوں میں بٹ گئی تھی پھر کون سا خاندان ایسا ہے؟ جس میں یہ مبارک وجود پیدا ہو گا۔اس کا باپ کون ہو گا؟ پر سوالات تھے جن کے بارے میں خوب کھول کر دکھایا۔وہ اس طرح کہ جب سارے بیٹے جوان ہو گئے تو حضرت عبدالمطلب کو اپنی نذر، منت یاد آئی۔انہوں نے سب بیٹوں کو لیا اور خانہ کعبہ کی طرف چلے۔وہاں جا کر اب وہ اپنی مرضی سے تو کسی کو قربان نہیں کر سکتے تھے۔انہوں نے تو اُسی بچے کو قربان کرنا تھا جس کو خدا چاہے، پسند کرے۔اس کے لئے حضرت عبدالمطلب نے سارے بیٹوں کے نام قرعہ ڈالا۔تو حضرت عبداللہ کا نام نکل آیا۔جانتے ہو عبداللہ کون تھے۔یہ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے والد تھے۔حیرت کی بات ہے کہ قرعہ کسی کے نام بھی نکل سکتا تھا۔مگر نکلا تو عبداللہ کے نام کیونکہ اللہ تعالیٰ کو عبد اللہ ہی پیارے تھے اس کی وجہ یہ کہ عبداللہ ہی نے اس کے محبوب کا باپ بننا تھا۔تو پھر کسی اور کے نام کس طرح قرعہ نکلتا۔پھر حضرت عبدالمطلب کو ساری اولاد میں سب سے پیارا یہی بیٹا تھا جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اسمعیل علیہ السلام تھے۔اس پیار کی کئی وجوہات ہیں۔ایک تو حضرت عبداللہ سب سے چھوٹے تھے۔اور چھوٹی اولاد سے ماں باپ کو زیادہ ہی پیار ہوتا ہے۔پھر شکل وصورت کے بھی پیارے۔عادات و اخلاق بھی بہت اچھے۔گویا سارے بچوں میں ہر لحاظ سے سب سے اچھی عادتوں کے مالک تھے۔اسی لئے تو خدا نے چُنا۔حضرت عبدالمطلب اپنے قول کے پکے تھے۔دل کی جو حالت تھی۔اس