مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 13
13 حضرت عبدالمطلب نے خدا سے کہا کہ اگر میرے دس بیٹے ہوں اور وہ میرے سامنے جوان ہو جائیں تو ان میں ایک بچہ تیری راہ میں قربان کر دوں گائیے۔آپ لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ سے پہلے تو سارے عرب میں بُت پرستی تھی۔پھر خدا کا نام کیسا، تو بچو! اس جہالت کے دور میں بھی ایسے سعید فطرت لوگ تھے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مذہب پر قائم تھے۔یعنی اللہ کی ذات پر ایمان رکھنے والے اور اُسی کو تمام طاقتوں اور قوتوں کا سر چشمہ ماننے والے۔حضرت عبدالمطلب کے بارے میں تو خاص طور پر کئی ثبوت ملتے ہیں۔کہ آپ کو خدا کی ذات پر مکمل ایمان تھا۔اسی ایمان کی وجہ سے خدا نے آپ سے پیار کا سلوک کیا اور آپ کو چاہ زم زم کا پتہ دیا۔بتائے ہوئے طریق پر چاہ زم زم مل گیا۔اس میں دفن خزانہ بھی ملا۔جس سے آپ کی غربت دور ہوئی۔اور وہ چشمہ کے مالک بن گئے۔پھر خدا نے ان کو دس بیٹے دیے اور وہ جوان بھی ہوئے۔یہ تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ خانہ کعبہ ہمارے پیارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بنایا گیا تھا اب دیکھو کس طرح خدا تعالیٰ کی قدرتیں ان ساری نعمتوں کو ان کے حقیقی وارث تک پہنچانے کا انتظام کرتی ہیں ایک عجیب بات۔اس پر ذرا غور تو کرو! کہ خدا نے جو یہ مکہ ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بسایا تھا۔چشمہ کے اصلی مالک تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہونا تھا۔اور خدا کے گھر یعنی خانہ کعبہ کے حقیقی وارث آپ ہی تھے۔) تو بچو! خدا نے پہلے سے آپ کے دادا کو تمام چیزیں عطا کر دیں۔اور عرب کے لوگوں کو سمجھایا کہ دیکھو! اس کا سچا اور حقیقی وارث پیدا ہونے والا ہے یہ سب اُسی کا 1 ابن سعد جلد اوّل ذکر نذر عبدالمطلب