مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل

by Other Authors

Page 12 of 57

مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 12

12 انسان آئے گا۔باقی دنیا کے لوگوں کو ہر زمانے میں آنے والے نبی نے بتایا کہ سنو میری اُمت کے لوگو۔مجھے ماننے والو۔ایک بہت عظیم اور مقدس انسان آنے والا ہے اور اس کی نشانیاں بھی بتائیں۔جو لوگ اس اعلان سے رہ گئے اور ان کو وقت کے وقت پتہ چلنا تھا۔ان لوگوں کے لئے خدا نے ایک ایسا انتظام کیا کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔اس کی قدرت پر۔یہ اسی واقعہ سے ملتا جلتا دوسرا واقعہ ہے۔جو حضرت اسمعیل علیہ السلام کے قریباً اٹھائیس سو سال بعد مکہ میں ہی ہوا۔خدا کا کرنا کیا ہوا؟ کہ حضرت عبدالمطلب جو ہمارے پیارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کے دادا تھے۔ان کو اللہ تعالیٰ نے چاہ زمزم تلاش کرنے کا حکم دیا۔انہوں نے اپنے قبیلہ قریش کے لوگوں سے مدد مانگی کہ آؤ مل کر اس مقدس چشمہ کو تلاش کرتے ہیں۔یہ چشمہ ایک لمبے عرصہ سے ریت اور مٹی میں دب چکا تھا اور کسی کو یاد نہیں تھا کہ دراصل یہ کس جگہ پر ہے۔پہلے تو کچھ لوگ تیار ہوئے مگر بعد میں اس کام کو ناممکن سمجھ کر کوئی راضی نہ ہوا۔حضرت عبدالمطلب اپنے اکلوتے بیٹے حارث کے ساتھ چشمہ کی تلاش میں نکلے۔کچھ لوگوں نے باپ بیٹے کا مذاق اڑایا۔حضرت عبدالمطلب اس وقت غریب تھے۔اور ان کا کوئی اور بیٹا بھی نہیں تھا۔اس وجہ سے لوگوں کے رویے اور اپنی کمزوری پر ان کو بہت دُکھ ہوا۔انہوں نے خدا سے ایک منت مانی۔آپ لوگوں کے ذہن میں سوال اُبھرے گا کہ منت کیا ہوتی ہے؟ منت یا نذر کے معنی ہیں کہ انسان اپنے خدا سے وعدہ کرتا ہے کہ اگر میرا یہ کام ہو جائے گا۔یا جو بھی اس کی خواہش ہو وہ پوری ہو جائے گی تو میں خدا کی راہ میں شکرانے کے طور پر فلاں چیز قربان کر دوں گا یا اتنی رقم دے دوں گا۔