مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 28 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 28

۲۸ وو خدا وند کریم نے اس غرض سے کہ تا ہمیشہ اس رسول مقبول کی برکتیں ظاہر ہوں اور تا ہمیشہ اس کے نور اور اس کی قبولیت کی کامل شعائیں مخالفین کو ملزم اور لاجواب کرتی رہیں۔اس طرح پر کمال حکمت اور رحمت سے انتظام کر رکھا ہے کہ بعض افراد اُمت محمدیہ کہ جو کمال عاجزی اور تذلل سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت اختیار کرتے ہیں اور خاکساری کے آستانہ پر پڑ کر بالکل اپنے نفس سے گئے گذرے ہوتے ہیں خدا ان کو فانی اور ایک مصفا شیشے کی طرح پا کر اپنے رسول مقبول کی برکتیں ان کے وجود بے نمود کے ذریعے سے ظاہر کرتا ہے اور جو کچھ منجانب اللہ ان کی تعریف کی جاتی ہے یا کچھ آثار اور برکات اور آیات ان سے ظہور پذیر ہوتی ہیں حقیقت میں مرجع نام ان تمام تعریفوں کا اور مصدر کامل ان تمام برکات کا رسول کریم ہی ہوتا ہے۔مندرجہ بالا مارچ ۱۸۸۲ء کے الہام کی بنیاد پر مرزا صاحب نے کوئی با قاعدہ دعوئی نہ کیا لیکن اس کے بعد تسلسل سے آپ کو ایسے الہامات ہوتے رہے جن میں خدا تعالیٰ نے مرزا صاحب کی حیثیت ، ذمہ داریوں کے مختلف پہلوؤں کو کھول کر بیان کیا مثلاً آپ نے اپنے ایک ۱۸۸۳ء کے الہام کا ان الفاظ میں ذکر کیا: اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسارا اپنی غربت اور انکسار اور تو کل اور ایثار اور آیات اور انوار کی رو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے ل : مرزا غلام احمد قادیانی ۱۸۸۲ ء - براہین احمدیہ حصہ سوئم صفحات ۲۴۳-۲۴۴