مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 354 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 354

۳۵۴ رہے جو دونوں میں سے بچے اور جھوٹے کے درمیان تمیز کرنے کا موقع میسر کرتے رہے۔ان میں سے چند کا تذکرہ درج ذیل ہے۔66 1- جب ماسٹر سعد اللہ کی نسبت مرزا صاحب کو الہام ہوا کہ ان شانِئَكَ هو الابتر “ اُسی وقت ماسٹر سعد اللہ صاحب کا ایک ۱۵-۶ سال کی عمر کا بیٹا تھا مرزا صاحب کی اس وحی کے بعد ماسٹر صاحب ۱۳ سال تک زندہ رہے اور خدا سے گڑ گڑا، گڑ گڑا کر اولاد کی دعا کرتے رہے لیکن ان کے ہاں بچے پیدا ہو کر مرتے رہے اور کوئی مزید بچہ زندہ نہ بچا اور صرف وہ بیٹا رہا جو پیشگوئی سے پہلے پیدا ہو چکا تھا۔اس طرح مرزا صاحب کی پیشگوئی کے مطابق ماسٹر صاحب کے ابتر رہ جانے کی پہلی علامت ظاہر ہوگئی۔اے II- مرزا صاحب نے مسلسل ماسٹر سعد اللہ لدھیانوی کو چیلنج پر چیلنج دیا کہ وہ الہام کے مطابق ابتر رہنے کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے اپنے گھر اولاد پیدا کر کے دکھا دے یا پہلے بچے کے گھر اولاد پیدا کر کے دکھا دے۔چنانچہ آپ لکھتے ہیں۔اگر سعد اللہ کا پہلالڑ کا نامرد نہیں ہے جو الہام ان شانِنگ هو الابتر “ سے پہلے پیدا ہو چکا تھا جس کی عمر تخمینا میں برس کی ہے تو کیا وجہ کہ اس قد رعمر گذر نے اور استطاعت کے اب تک اس کی شادی نہیں ہوئی اور نہ اس کی شادی کا کچھ فکر ہے۔اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔سعد اللہ پر فرض ہے کہ اس پیشگوئی کی تکذیب کے لئے یا تو اپنے گھر میں اولاد پیدا کر کے دکھا دے اور یا پہلے لڑکے کی ل : مرزا غلام احمد قادیانی ۱۹۰۷ء حقیقۃ الوحی صفحه ۳۶۴