مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 355 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 355

۳۵۵ شادی کر کے اور اولاد حاصل کرا کر اس کی مردمی ثابت کرے اور یا در کھے ان دونوں باتوں میں سے کوئی بات اس کو ہرگز حاصل نہیں ہو گی کیونکہ خدا کے کلام نے اس کا نام ابتر رکھا ہے اور ممکن نہیں کہ خدا کا کلام باطل ہو۔یقیناوہ ابتر ہی مرے گا جیسا کہ آثار نے بھی ظاہر کر دیا ہے۔III- ماسٹر سعد اللہ لدھیانوی کے ابتر رہنے کا چیلنج جب مرزا صاحب نے اپنی تصنیف حقیقۃ الوحی میں لکھ کر ۱۹۰۶ء میں چھپنے کے لئے پریس میں دینے کے لئے تیار کیا تو مرزا صاحب کے وکیل اور مرید خواجہ کمال الدین صاحب مرزا صاحب کے پاس گئے اور عرض کی کہ چونکہ ماسٹر سعد اللہ صاحب اور ان کا بیٹا ابھی دونوں زندہ ہیں اس لئے ان کے متعلق ابتر کہنا قابل مواخذہ قانون ہے اس لئے یہ الہام اخفا میں ہی رکھنا چاہئے لیکن مرزا صاحب نے اس مشورے کو سخت نا پسند کیا اور کہا کہ خواجہ صاحب آپ کوئی فکر نہ کریں اگر مقدمہ ہمارے خلاف چل بھی گیا تو ہم آپ کو وکیل نہیں کریں گے۔میرے نزدیک تو صحیح راہ یہی ہے کہ الہام کی تعظیم مقدم ہے اور اس کا اخفا اللہ تعالیٰ کی معصیت اور کمینگی۔یادرکھو خدا تعالیٰ کے سوا کوئی بھی ضرر نہیں پہنچا سکتا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے بعد مجھے حکام کے عتاب کی قطعا پرواہ نہیں ہے۔ہم جناب الہی میں (جو ہر فضل کا سرچشمہ ہے ) دعا کریں گے اگر قضاء قدر میں ہمارے لئے مصیبت لکھی ہے تو ہم اس ذلت کی زندگی پر ہی راضی ہیں مگر ل : مرزا غلام احمد قادیانی ۱۹۰۷ء- حقیقۃ الوحی۔صفحہ۳۶۵ ( حاشیہ )