مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 201
۲۰۱ زبر دست جوش و جذبے اور باہمی تعاون سے کام کر رہے تھے لیکن اس مقدمے کے دوران اُن میں پھوٹ کی پہلی علامت اُس وقت ظاہر ہوئی جب امریکن مشن امرتسر کے پادری ایچ۔جی۔گرے اور پادری نور دین نے عدالت میں ایسے بیانات دیئے جس سے ڈاکٹر مارٹن کلارک کا مرزا صاحب کے خلاف مقدمہ کمزور پڑا۔دوسری پھوٹ اُس وقت پڑی جب مولوی محمد حسین بٹالوی نے اس مقدمے میں ڈاکٹر مارٹن کلارک کی طرف سے مرزا صاحب کے خلاف گواہی دی۔ان کی گواہی ڈاکٹر مارٹن کلارک سے متناقض ٹھہری اور مولوی صاحب موصوف جھوٹے ٹھہرے۔مرزا صاحب کے دشمنوں میں تیسری پھوٹ عبدالحمید کے آخری بیان سے پیدا ہوئی جس کی رو سے عیسائی پادریوں کی اُس پر شب و روز کی محنت رائگاں گئی اور بالآخر مقدمے کو پادریوں کا جھوٹا قصہ قرار دیا گیا حالانکہ مرزا صاحب کو سزا دلوانے کے لئے سارے عوامل اُن کے موافق تھے مگر بجز بے عزتی کے پادریوں کے ہاتھ کچھ نہ لگا۔مرزا صاحب کے الہامی الفاظ ایک متنافس شخص کی ذلت اور اہانت اور ملائمت خلق کے مور د مولوی محمد حسین بٹالوی ہوئے۔مولوی صاحب جمیعت اہل حدیث کے لیڈر تھے اور اس مقدمے کے دوران حاصل ہونے والی ذلتوں، اہانتوں کو انہوں نے اپنے لئے خود پیدا کیا۔اس مقدمے میں مولوی صاحب عیسائیوں کی طرف سے اس غرض سے گواہی دینے آئے تھے کہ کسی طرح سے عیسائیوں کو کامیابی حاصل ہو اور مرزا غلام احمد صاحب کو سزا ہو جائے لیکن اس سارے معرکے میں سب مخالف فریقوں کے ساتھ مولوی محمد حسین صاحب کو بھی متعدد