مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 202
٢٠٢ نامرا دیوں ، ندامتوں، ذلتوں ، اہانتوں اور ملائمت خلق کا سامنا کرنا پڑا۔ان میں سے چند ایک کا ذکر ہم یہاں کریں گے۔(الف) پہلی نامرادی تو مولوی صاحب کے حصے میں اس وقت آئی جب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر کے مرزا غلام احمد قادیانی کے خلاف جاری کردہ وارنٹ گرفتاری تعمیل کے لئے سات دن کے بعد بھی منزل مقصود تک نہ پہنچ سکے یہاں تک کہ منسوخ کر دئے گئے حالانکہ قادیان امرتسر سے صرف ۵۰،۴۰ میل دور تھا اور مرزا صاحب کی عزت پر حرف نہ آسکا جس کے مولوی محمد حسین بٹالوی دل سے خواہاں تھے۔مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ بقول وارث دین جو اس مقدمہ کی سازش میں شریک ہے عیسائی اس بات کے ہر روز منتظر تھے کہ کب یہ شخص گرفتار ہوکر امرتسر میں آتا ہے اور بعض مخالف مولوی اور اُن کی جماعت کے لوگ ہر روز اسٹیشن امرتسر پر جاتے تھے کہ تا مجھے اس حالت میں دیکھیں کہ ہتھکڑی لگے ہاتھ اور پولیس کی حراست میں ریل سے اُتر ا ہوں۔1 (ب) دوسری نامرادی مولوی محمد حسین بٹالوی کے حصے میں اس وقت آئی جب اُس نے بجائے مرزا صاحب کو ہتھکڑی میں گرفتار دیکھنے کے یہ دیکھا کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور کی عدالت میں مرزا غلام احمد صاحب کی پذیرائی کی گئی اور انہیں بڑی مہربانی اور شفقت کے ساتھ پہلے سے رکھوائی گئی کرسی پیش کی گئی۔مولوی صاحب کے ل : مرزا غلام احمد قادیانی ۱۸۹۸ ء - کتاب البریہ - صفحہ ۲۷