مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 210 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 210

۲۱۰ کی عمر میں ڈوئی واپس سکاٹ لینڈ آیا جہاں اُس نے یونیورسٹی آف ایڈنبرا سے دو سال تک با قاعدہ پادری بنے کی تعلیم حاصل کی۔۱۸۷۰ء میں ڈوئی واپس آسٹریلیا چلا گیا جہاں اُس نے فن خطابت میں خاص ملکہ حاصل ہونے کی بنا پر خاص شہرت حاصل کی اور یہیں اُس نے روحانی شفا کے نظریے کا پر چار شروع کیا۔اُس کا اعتقاد تھا کہ یسوع مسیح کی طرح شفا دینے کی طاقت عیسائی مقدسین میں ہمیشہ قائم رہی ہے اور اس کو بھی ذاتی طور پر یہ طاقت دی گئی ہے۔۱۸۸۲ء میں اُس نے میلبورن (آسٹریلیا ) میں اپنا الگ آزاد چرچ قائم کر لیا۔۱۸۸۸ء میں دوسرے پادریوں سے شدید اختلافات کی بنا پر ڈوئی کو آسٹریلیا چھوڑنا پڑا۔چند ہفتے نیوزی لینڈ میں گزارنے کے بعد ڈوئی ۷ جون ۱۸۸۸ء کو امریکہ کے شہر سان فارسکو جا پہنچا۔پہلے اس شہر کے قرب و جوار میں اور بعد میں دوسری مغربی امریکی ریاستوں میں مختلف مقامات پر ڈوئی جلسے کرتا رہا اور اپنے روحانی شفا کے نظریے کا پر چار کرتا رہا۔اُس کی اس تگ و دو سے کمزور طبع لوگ اُس کے ہمدرد بن گئے اور اُسے مالی امداد بھی ملنے لگی۔اس مرحلے پر ڈوئی جو قبل ازیں صرف پادری ڈوئی تھا اپنے آپ کو ڈاکٹر ڈوئی کہلوانے لگا۔جون ۱۸۹۰ ء میں شکاگو کے مضافات میں اور پھر مئی ۱۸۹۳ء میں شہر کے اندر اپنا گر جا بنالیا اور ایک کرائے کی عمارت میں احیائے عیسویت کے مقصد سے زائن ہوم کا آغاز کر دیا۔اُسے یہاں جلد ہی بہت شہرت ملی۔عیسائیوں کے گروہ در گروہ اُس کی پیروی میں آنے کے باعث اُسے خاطر خواہ مالی آمدنی ہونے لگی اور ڈاکٹر ڈوئی نے مزید عمارتیں خرید کر ”زائن پرنٹنگ اینڈ پبلشنگ ہاؤس کھول دیا جہاں سے اُس کا اخبار لیوز آف ہیلنگ (Leaves of healing) نکلنا