مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 211 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 211

۲۱۱ شروع ہوا۔بہت تھوڑے عرصے میں ڈاکٹر ڈوئی کو امریکہ کے طول وعرض میں اتنی مقبولیت حاصل ہوئی اور لوگ اتنی بڑی تعداد میں اُس کے پیروکاروں میں شامل ہونے لگے کہ ۲۲ فروری ۱۸۹۶ء کو اُس نے اپنے نئے فرقہ کی بنیاد رکھ دی جس کا نام کرسچن کیتھولک چرچ رکھا گیا۔۱۹۰۰ء کے لگ بھگ جب ڈاکٹر ڈوئی نے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا تو اپنے فرقے کا نام بدل کر کرسچن کیتھولک اپاسٹلک چرچ رکھ دیا۔اس وقت تک اُس کے فرقے کا اپنا بنک بھی قائم ہو چکا تھا اور امریکہ سے باہر کے ممالک مثلاً یورپ اور آسٹریلیا سے بھی لوگ اُس کے فرقے میں شامل ہونے لگے جن کی تعد دا ہزاروں تک تھی۔ڈاکٹر ڈوئی نے جلد ہی اپنے فرقے کے مرکز کی تعمیر کے لئے شکاگو کے شمال میں ایک نئے شہر کی بنیا درکھی اور اس کا نام اس نے صحون رکھ دیا جو ۳۱ مارچ ۱۹۰۲ ء تک قانونی طور پر وجود میں آ گیا۔اس شہر کے سارے بینک، تمام سٹورز ، بڑی بڑی فیکٹریاں، کارخانے اور پرنٹنگ پریس وغیرہ بیش بہا مالیت کے سب ادارے ڈوٹی کی ملکیت تھے اور ڈاکٹر جان الیگزینڈر ڈوئی اس شہر کا مطلق العنان حاکم بن گیا۔اس کے ساتھ ہی ڈوئی اپنی طاقت ،شہرت اور دولت کے نصف النہار پر پہنچ گیا۔-۲- ڈاکٹر ڈوئی کی اسلام دشمنی: ڈاکٹر ڈوئی شروع سے ہی اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا شدید دشمن تھا۔چنانچہ اُس نے اپنے اخبار میں لکھا کہ ( ترجمہ ) میں محمد کے جھوٹوں کا نفرت کے ساتھ تصور کرتا ہوں۔اگر میں ان