مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 47
۴۷ قرائن وقوعہ، منطقی دلائل اور خدا تعالیٰ کے تازہ الہام سے ملنے والی شہادتوں کو کھول کر بیان کیا۔آپ کے متعدد رسائل اور کتب مثلاً فتح اسلام (۱۸۹۱ء) ، توضیح مرام (۱۸۹۱ء)، ازالہ اوہام (۱۸۹۱ء) ، مباحثہ دہلی (۱۸۹۱ء) ، مسیح ہندوستان میں (۱۸۹۹ء) اور حقیقۃ الوحی (۱۹۰۷ء) میں متعدد مسائل کے علاوہ مسیح علیہ السلام کی طبعی وفات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔علاوہ ازیں جماعت احمدیہ کے کئی محققین نے حضرت مسیح علیہ السلام کی طبعی وفات اور ان کے سرینگر کی طرف سفر اور تدفین پر علمی بحث کی ہے۔ان میں خواجہ نذیر احمد صاحب کی کتاب Jesus in Heaven on Earth، مولانا جلال الدین صاحب شمس کی کتاب ?Where did Jesus Die ، اور حسن محمد خاں عارف کی کتاب مقدس کفن کے علاوہ مختلف رسالوں میں چھپنے والے بے شمار مضامین شامل ہیں۔جماعت احمدیہ کے ایک فاضل مولانا جلال الدین صاحب شمس نے متعدد ایسے اقوال علماء، احادیث اور قرآنی حوالوں کو اس نظریے کی حمایت میں درج کیا ہے کہ ظہور مسیح سے مراد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جسمانی ظہور نہیں بلکہ اس سے ایک مثیل مسیح کی آمد مراد ہے۔مثلاً امام سراج الدین ابن الوردی کا یہ قول کہ ( ترجمہ ) پھر تاویل کرنے والوں نے نزول عیسی کے بارے میں اختلاف کیا ہے۔ان میں سے اکثر نے جو زیادہ سزا وار تصدیق ہیں یہ کہا ہے کہ عیسی علیہ السلام بذاتہ دنیا میں واپس آئیں گے اور ایک اور گروہ نے نزول عیسی سے ایک ایسے شخص کا ظہور مرادلیا ہے جو فضل وشرف میں عیسی علیہ السلام کے مشابہ ہو گا جیسے کہ تشبیہہ دینے کے لئے نیک آدمی