مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 2
باعث ۱۸۰۶ ء یا ۱۸۰۳ء میں قادیان چھوڑ کر ریاست کپورتھلہ کی طرف چلے گئے۔یہاں جلا وطنی کے دوران ۱۸۱۴ء کے لگ بھگ ان کا انتقال ہو گیا۔۱۸۳۴ ء یا ۱۸۳۵ء میں مہا راجہ رنجیت سنگھ نے مرزا عطا محمد کے فرزند اور مرزا غلام احمد کے والد ماجد مرزا غلام مرتضی صاحب کو بلا کر قادیان کی ریاست کے پانچ گاؤں واپس کر دیئے اور اس طرح یہ خاندان ایک دفعہ پھر اپنی جدی پشتی جگہ آ کر آباد ہو گیا۔یہ جا گیر مزید ۱۴-۱۵ برس تک اس خاندان کے پاس رہی۔یہاں تک کہ ۱۸۴۹ء میں جب پنجاب ہندوستان کی انگریزی سلطنت کا حصہ بنا۔تو یہ جاگیر بھی اس خاندان سے لے لی گئی۔ان واقعات کو سر لیپل گریفن اور کرنل میسی کی تصنیف ” پنجاب چیفس میں اس خاندان کے تذکرے میں بیان کیا گیا ہے۔اس کتاب کا اردو تر جمہ سید نوازش علی مترجم پنجاب گورنمنٹ نے ۱۹۴۱ء میں تذکرہ روسائے پنجاب کے نام سے شائع کیا۔مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مقتدر احمدی محققین کے مطابق ۱۳ فروری ۱۸۳۵ء بروز جمعہ قادیان (ضلع گورداسپور پنجاب) ہندوستان میں پیدا ہوئے۔آپ کی پیدائش تو ام تھی۔خاندانی رواج کے مطابق آپ نے ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی۔ایک بزرگ فضل الہی صاحب نے آپ کو قرآن شریف اور فارسی کی چند گتب پڑھائیں۔مولوی فضل احمد صاحب نے آپ کو عربی زبان کی گرامر (صرف اور نحو) کی کچھ تعلیم دی۔بعد میں جب آپ سترہ، اٹھارہ برس کے ہوئے تو مولوی گل علی شاہ صاحب سے نحو، منطق اور حکمت کی مروجہ تعلیم حاصل کی۔فن طبابت مرزا صاحب نے اپنے والد صاحب مرزا غلام مرتضی صاحب سے سیکھا جو خود بھی بڑے حاذق طبیب تھے لیکن طبابت ان کا پیشہ یا ذریعہ معاش نہ تھا۔مرزا غلام احمد صاحب بچپن ہی