مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 3 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 3

سے خاموش ، متین اور سنجیدہ مزاج تھے۔عادات پُر وقار تھیں۔اپنے ہم عمر بچوں ، لڑکوں سے الگ تھلگ رہتے اور کھیل کو د سے کوئی دلچسپی نہ رکھتے تھے۔کسی حد تک تیرنا سیکھا ہوا تھا لیکن گھڑ سواری میں ماہر تھے۔جسمانی صحت کے لئے سب سے زیادہ اور مستقل عادت آپ کو پیدل سیر کی تھی جس کے لئے آپ قادیان سے باہر روزانہ کئی کئی میل پیدل جایا کرتے تھے۔یہ شوق آپ کو آخری عمر تک رہا۔زندگی کے معمولات میں سب سے زیادہ رغبت آپ کو مسجد میں نماز اور تلاوت قرآن پاک سے تھی۔دن کا اکثر حصہ آپ انہی مقاصد کی خاطر مسجد میں ٹہل کر گزارتے۔1 مرزا غلام احمد صاحب کو اوائل عمر سے ہی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس سے اس درجہ والہانہ عشق تھا کہ اگر کوئی شخص ذراسی بات بھی رسول اللہ کی ذات کے خلاف منہ سے نکالتا تو آپ کا چہرہ غیرت سے سُرخ ہو جاتا اور آنکھیں متغیر ہو جاتیں۔نماز میں خشوع و خضوع غیر معمولی تھا۔کچھ عینی شاہدوں کے مطابق سب سے زیادہ انہماک آپ کو قرآن مجید کے مطالعہ ہی میں تھا۔آپ کے متعلق آ کے والد صاحب کہا کرتے تھے کہ: وو یہ کسی سے غرض نہیں رکھتا۔سارا دن مسجد میں رہتا ہے اور قرآن شریف پڑھتا رہتا ہے ہے مرزا غلام احمد صاحب کے بیٹے مرزا سلطان احمد صاحب کی روایت ہے کہ حضور ( یعنی مرزا غلام احمد - ناقل ) قرآن مجید کے علاوہ بخاری، شیخ یعقوب علی عرفانی - سیرت مسیح موعود جلد اول صفحہ ۵۲ ریویو آف ریلیجنز (اردو)۔جنوری ۱۹۴۲ء صفحه ۹