مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 222
۲۲۲ طریق اُس کا بھی شکست کی صورت سمجھی جائے گی اور نیز اس صورت میں پبلک کو یقین کرنا چاہئے کہ یہ تمام دعوئی اُس کا الیاس بنے کا محض زبان کا مکر اور فریب تھا اور اگر چہ وہ اس طرح سے موت سے بھاگنا چاہے گا لیکن درحقیقت ایسے بھاری مقابلے سے گریز کرنا بھی ایک موت ہے۔پس یقین سمجھو کہ اُس کے صحون پر جلد تر ایک آفت آنے والی ہے کیونکہ ان دونوں صورتوں میں سے ضرور ایک صورت اُس کو پکڑے گی۔‘1 مرزا غلام احمد صاحب کے اس اشتہار کو بھی امریکہ کے کئی اخبارات نے نمایاں طور پر شائع کیا مثلاً نیو یارک کمرشل ایڈور ٹائزر نے ۲۶ /اکتوبر کی اشاعت میں اور دی مارننگ ٹیلیگراف نے ۲۸ را کتوبر ۱۹۰۳ء کی اشاعت میں اسے مشتہر کیا۔گلاسگو ہیرلڈ نے اپنی ۲۷ اکتوبر ۱۹۰۳ء کی اشاعت میں لکھا کہ ( ترجمہ ) ”مرزا غلام احمد اپنی پیشگوئی مورخہ ۲۳/اگست ۱۹۰۳ء میں ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اپنی دعوت مقابلہ کے جواب کا سات ماہ آئندہ تک انتظار کریں گے۔اگر اس عرصہ میں ڈاکٹر ڈوئی نے اس مقابلہ کو منظور کر لیا اور اس کی شرائط کو پورا کیا تو تمام دنیا اس مقابلے کا انجام دیکھ لے گی۔میری عمر ستر سال کے قریب ہے حالانکہ ڈاکٹر ڈوئی صرف پچپن سال کی عمر کا ہے لیکن چونکہ مقابلے کا انفصال عمر پر نہیں اس واسطے میں ان عمر کے سالوں کی تفاوت کی کچھ پرواہ نہیں کرتا۔مرزا غلام احمد صاحب کہتے ہیں کہ اگر اب بھی ڈوئی مقابلہ سے انکار کرے گا تو امریکہ کے پیغمبر کے ل : دوست محمد شاہد- تاریخ احمدیت۔جلد سوم صفحه ۲۵۳