مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 176 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 176

۱۷۶ کے اخفائے رجوع الی الحق کے فعل پر اس قدر زور دار اور مسلسل وارننگ دی کہ آخر کار اُن کی موت کے واقع ہونے کا حتمی اعلان کر دیا۔مرزا صاحب کی طرف سے پہلا انعامی چیلنج اشتہار ۹ ستمبر ۱۸۹۴ء کو اور ساتواں ۳۰ دسمبر ۱۸۹۵ء کو دیا گیا۔جن میں ہر طرح سے پادری صاحب کو قسم کھانے کے لئے آمادہ کیا گیا مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ اب اگر آتھم صاحب قسم کھا لیو یں تو وعدہ ایک سال قطعی اور یقینی ہے جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہیں اور تقدیر مبرم ہے اور اگر فتم نہ کھاویں تو پھر بھی خدا تعالیٰ ایسے مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑے گا جس نے حق کا اخفا کر کے دنیا کو دھوکا دینا چاہا اور وہ دن نزدیک ہیں دور نہیں یعنی اس کی موت کے دن ! اگر تاریخ قسم سے ایک سال تک وہ زندہ سالم رہا تو وہ روپیہ ( انعامی چیلنج کا روپیہ۔ناقل ) اُس کا ہوگا اور پھر اس کے بعد یہ تمام قومیں مجھ کو جو سزا دینا چاہیں دیں۔اگر مجھ کو تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں تو میں عذر نہیں کروں گا اور خود میرے لئے اس سے زیادہ اور کوئی رسوائی نہیں ہوگی کہ میں ان کی قسم کے بعد جس کی بنیا د میرے ہی الہام پر ہے۔جھوٹا نکلوں سے اگر آتھم نے جھوٹی قسم کھالی تو ضرور فوت ہو جائیں گے۔قسم کھانے کے بعد خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ قطعی فیصلہ کرے سو قسم کھانے کے بعد ایسے مکارکا پوشیدہ ہرگز قبول نہیں ہوگا“ سے ہے : مرزا غلام احمد قادیانی ۱۸۹۴ء ۱۸۹۵ء۔انعامی اشتہارات۔پادری عبداللہ آتھم