مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 175
۱۷۵ ۷۔مرزا صاحب کا فیصلہ کن چیلنج: مرزا صاحب کے مخالفین مسلمان علماء اور عیسائی پادری بھی اس حقیقت کو ماننے کے لئے تیار نہ تھے کہ پادری عبداللہ آتھم نے رجوع الی الحق کیا تھا اس لئے وہ پیشگوئی میں مذکورہ عذاب سے زندہ بچ گئے۔دوسری طرف پادری عبداللہ آتھم بھی خاموش تھے۔وہ بڑی اہم دنیا وی حیثیت کے مالک اور عیسائی فرقے کے لیڈر تھے۔اگر چہ زبردست ذہنی کرب میں مبتلا تھے لیکن اس بات کے اظہار پر آمادہ نہ تھے کہ وہ واقعتاً پیشگوئی کے پندرہ ماہ کے دوران خوف زدہ تھے اور پیشگوئی کی ہیبت سے ڈرتے رہے تھے لیکن مرزا صاحب نے آتھم صاحب کے پس و پیش کو ختم کرنے اور حق کے متلاشیوں کے لئے ایک فیصلہ کن چیلنج دے دیا اور مندرجہ ذیل مضمون کی قسم کھانے پر انعامی رقم پہلے ایک ہزار رو پید اور پھر بڑھا کر چار ہزار روپے دینے کا اعلان کیا۔قسم کے الفاظ سادہ اور واضح تھے یعنی پیشگوئی کے دنوں میں ہرگز میں نے اسلام کی طرف رجوع نہیں کیا اور ہرگز اسلام کی عظمت میرے دل پر موثر نہیں ہوئی اور اگر میں جھوٹ کہتا ہوں تو اے قادر خدا ایک سال تک مجھ کو موت دے کر میرا جھوٹ لوگوں پر ظاہر کر ! جب آتھم صاحب بار بار توجہ دلانے پر اور پے در پے انعامی چیلنجوں کے بعد بھی مذکورہ بالا تم کھانے کو تیار نہیں ہوئے تو مرزا صاحب نے پادری صاحب کو ان : مرزا غلام احمد قادیانی ۱۸۹۴ء - انعامی اشتہارات۔۹ر ستمبر ۱۸۹۴ء سے ۳۰ دسمبر ۱۸۹۵ء