مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 171
121 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ دجال کہنا ترک کر دیں گے تو یہ سن کر پادری صاحب کا رنگ فق اور چہرہ زرد ہو گیا۔ہاتھ کانپنے لگے اس نے دونوں ہاتھ کان پر تو بہ کے رنگ میں رکھ کر کہا کہ میں نے بے ادبی اور گستاخی نہیں کی۔میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر گز دجال نہیں کہا۔یہ اُس کی تو بہ اور خوف خدا کی پہلی علامت تھی۔(ب) پندرہ ماہ کی پیشگوئی کی مدت کے دوران پادری عبداللہ آتھم نے اسلام کے خلاف ایک حرف بھی منہ سے نہ نکالا جس سے اُس کے پیشگوئی میں مخفی ہاویہ سے اُس کے دلی رجحان کا اشارہ ملتا ہے۔(ج) پادری عبد اللہ آتھم نے اپنے بعض بنیادی عقائد میں جو شرک پر مبنی تھے بعض واضح تبدیلی کی جو رجوع الی الحق کے زمرے میں شمار ہوتی ہے۔آپ نے لکھا کہ میں عام عیسائیوں کے عقیدہ ابنیت والوہیت کے ساتھ متفق نہیں اور نہ میں اُن عیسائیوں سے متفق ہوں جنہوں نے آپ ( مرزا غلام احمد صاحب - راقل ) کے ساتھ کچھ بیہودگی کی ہے۔“ ہے (1) پیشگوئی کی ہیبت نے جس طرح پادری عبداللہ آتھم کے منہ کو اسلام کے خلاف کچھ کہنے سے روک دیا اور جس نے انہیں اس بات کی طرف مائل کیا کہ وہ مسیح کی ابنیت اور الوہیت کا مشرکانہ طریق ترک کر کے خدا کے عذاب سے بچیں وہ حالت اپنی تفصیل میں کسی عذاب یا ہاویہ سے کم نہیں۔پادری صاحب کا بیان و عمل پندرہ ماہ 1 : مولانا جلال الدین شمس ۱۹۶۳ء۔پیش لفظ۔روحانی خزائن جلدا اصفحہ ۷ ۲ : اخبار نور افشان ۶۱۸۹۴ - ۲۱ ستمبر ( بحواله تبلیغ رسالت جلد ۳ صفحه ۱۲۰)