مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 172 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 172

۱۷۲ کے دوران ایسا عبرتناک رہا کہ گویاوہ زندہ ہی قبر میں چلے گئے۔مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنی تصنیف سیرت المہدی میں اُن واقعات کو پادری صاحب کے اپنے بیانات کی روشنی میں اختصار کے ساتھ جمع کیا ہے۔مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ انہیں خدائی تصرف کے تحت مختلف دہشتناک نظاروں میں خونی سانپ نظر آنے لگے جن کی نسبت انہوں نے یہ بتایا کہ وہ تعلیم یافتہ“ سانپ تھے جن کو مرزا صاحب کی جماعت نے میرے ڈسنے کے لئے چھوڑ رکھا تھا۔یہ پیشگوئی کی عظمت اور ہیبت کی ابتدا تھی جس نے بالآخر انہیں اس درجہ خوف زدہ کر دیا کہ وہ اپنی عالی شان کوٹھی چھوڑ کر امرتسر لدھیانہ چلے جانے کو جہاں اُن کا داماد رہتا تھا مجبور ہو گئے۔لدھیانے میں سانپ دکھائی نہیں دیئے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ایک خوفناک حالت پیدا ہوگئی کہ بعض نیزوں سے مسلح آدمی اُنہیں نظر آنے لگے اور انہیں ایسا محسوس ہوا کہ وہ قریب ہی آپہنچے ہیں اور انہیں قتل کیا چاہتے ہیں۔اس نظارہ کے بعد آتھم صاحب گریہ وزاری میں مبتلا ہو گئے اور ہر وقت ایک پوشیدہ ہاتھ کا خوف اُن پر مسلط رہنے لگا یہاں تک کہ اُنہیں اس کوٹھی سے بھی وحشت ہونے لگی۔اس پر وہ اپنے دوسرے داماد کی طرف دوڑے جو فیروز پور میں تھا لیکن یہاں بھی اُنہیں چین نصیب نہ ہوا بلکہ یہاں وہ نظارے پہلے سے بھی زیادہ ہیبت ناک شکل اختیار کر گئے۔مسٹر آتھم ایک تجربہ کار اور جہاندیدہ سرکاری افسر تھے۔۔۔وہ چاہتے تو چارہ جوئی کر کے سرکاری طور پر اپنے