مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 126 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 126

١٢٦ بروز جمعہ المبارک مسلمانوں کی عید الفطر کا دن تھا۔بیان کیا گیا ہے کہ پنڈت لیکھرام صاحب ۶ / مارچ ۱۸۹۷ء بروز ہفتہ شام کے وقت اپنے مکان کی بالائی منزل پر ننگے بدن بیٹھے، پنڈت دیانند بانی آریہ سماج کی سوانح عمری لکھ رہے تھے اور وہ شدھی کا خواہاں شخص بھی کمبل اوڑھے پاس ہی بیٹھا تھا۔اس دوران تصنیف کے کام سے تھک کر پنڈت لیکھرام صاحب کھڑے ہو گئے اور کھڑے ہوتے ہی انگڑائی کی جس پر اس شدھی ہونے والے شخص نے پنڈت صاحب کی بڑھی ہوئی تو ند پر خنجر کا بھر پوروار کیا کہ انتڑیاں پیٹ سے باہر نکل آئیں۔پنڈت صاحب کی شیخ کی آواز کوسن کر پنڈت صاحب کی بیوی اور والدہ اس کمرے میں آ گئیں۔ان کے شور سے گلی اور محلے کے لوگ بھی جمع ہو گئے مگر ساری روکاوٹوں اور حفاظتوں کے باوجود کسی کو بھی پتہ نہ چل سکا کہ حملہ آور کدھر کو ، کس طرح اور کہاں غائب ہو گیا۔پنڈت جی کو زخمی حالت میں لاہور میوہسپتال پہنچایا گیا جہاں انگریز ڈاکٹر پیری کی پوری کوشش کے باوجود پنڈت صاحب آٹھ گھنٹے شدید کرب کے بعد ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات ۱-۲ بجے اس دار فانی سے چل بسے۔اس واقعہ کے پس منظر اور اس کی تفاصیل کے بارے مشہور آریہ سماجی لیڈر پنڈت دیو پرکاش نے اس طرح لکھا کہ ۱۳ / فروری یا ۱۴ فروری ۱۸۹۷ء کو ایک شخص لالہ ہنراج جی کے پاس گیا۔پھر دوسرے روز دیا نند کالج ہال میں دکھائی دیا۔وہ پنڈت لیکھرام جی کو تلاش کرتا تھا۔پھر پنڈت جی کو ملا تو اس نے عرض ظاہر کی کہ وہ پہلے ہندو تھا عرصہ ۲ سال سے مسلمان ہو گیا تھا اب پھر اپنے اصل دھرم پر واپس آنا چاہتا ہے۔۔۔وہ پنڈت جی کے ساتھ