مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 125 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 125

۱۲۵ کو چار سال کے قریب عرصہ گذر چکا تھا مرزا صاحب اور پنڈت صاحب کے درمیان معرکے کے فیصلہ کن لمحات آن پہنچے تھے جن کو قریب تر لانے کے اسباب ہی پنڈت صاحب کے اپنے ہاتھوں پیدا ہورہے تھے۔اُن کے قرآن ، اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے استہزاء میں تلخی بڑھ رہی تھی اور وہ مرزا صاحب کی پیشگوئیوں کا مسلسل تمسخر اڑارہے تھے۔آخر خدا کے قہری نشان کے ظہور کا وقت آ پہنچا جس کی مختصر روداد یوں ہے۔اگر چہ عام طور پر ہندو مذہب کے مطابق ہند و پیدائشی ہوتا ہے اور کسی غیر مذہب والا ہندو مذہب میں داخل نہیں ہو سکتا مگر پنڈت لیکھرام صاحب وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے ہندوستان میں شدھی کی داغ بیل ڈالی۔پنڈت صاحب کا نکتہ نگاہ یہ تھا کہ ماضی میں ہندوستان کے مسلمان بادشاہوں نے زبر دستی ہندوؤں کو مسلمان بنالیا تھا جن کو پھر سے اپنے آبائی دھرم ہندو مذہب میں واپسی کے لئے شدھی کا آغاز کرنا چاہیے اس کے نتیجے میں بقول پنڈت صاحب ایک مسلمان آکر ان سے ملتجی ہوا کہ میرے باپ دادا ہندو تھے جو مسلمانوں کے زیر اثر آ کر مسلمان ہو گئے تھے اس نے پھر سے ہندودھرم آنے کے لئے شدھی کی درخواست کی۔پنڈت لیکھرام صاحب نے اس کے لئے ے مارچ ۱۸۹۷ء کی تاریخ مقرر کی۔ہندوؤں کی طرف سے اس کے لئے زور شور سے جلسے ، جلوس اور خوشیاں منانے کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ان دنوں پنڈت صاحب لاہور کے آریہ محلہ وچھو والی کے ایک ایسے مکان میں رہائش رکھتے تھے جو تین منزلہ تھا اور گلی کا آخری مکان تھا گلی آگے سے بند تھی اور مکان مکمل طور پر محفوظ تھا۔انہی دنوں ماہ رمضان المبارک کے خاتمے پر ۵/ مارچ ۱۸۹۷ء