مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 127
۱۲۷ سایہ کی طرح رہنے لگا۔کھانا بھی عام طور پر پنڈت جی کے گھر کھایا کرتا تھا یہاں تک کہ پنڈت جی یکم مارچ کو ملتان تشریف لے گئے۔۵/ مارچ کو عید کا دن تھا قاتل نے اس دن پنڈت جی کے گھر ، ریلوے سٹیشن ، آریہ پر تی ندھی سبھا کے دفتر میں ۱۸ یا ۱۹ چکر لگائے مگر پنڈت جی ۵/ مارچ کو ملتان سے نہ آ سکے۔اس سے اس ظالم کا ارادہ پنڈت جی کو عید کے دن شہید کرنا تھا۔۶ / مارچ کو صبح پنڈت جی کے مکان پر پہنچا اور بعد ازاں پر تی ندھی کے دفتر سے ہوتا ہوار میلوے سٹیشن گیا۔اس روز پنڈت جی ملتان سے تشریف لے آئے۔قاتل خلاف معمول کمبل اوڑھے ہوئے تھا اور بار بار تھوکتا تھا اور کانپ رہا تھا۔یہ حالت دیکھ پنڈت جی نے سوال کیا کہ کیا بخار ہے؟ اس نے کہا۔ہاں ، ساتھ کچھ درد بھی ہے۔تب پنڈت جی اُسے ڈاکٹر بشن داس کے پاس لے گئے۔ڈاکٹر صاحب نے کہا اسے بخار وغیرہ تو کچھ نہیں لیکن خون میں کچھ جوش ہے۔ڈاکٹر صاحب نے پلستر لگانے کو کہا مگر اس مکار نے انکار کر دیا اور کہا کوئی پینے کی دوا دیجئے تب پنڈت جی نے ڈاکٹر صاحب کی اجازت سے اسے شربت پلایا۔اس کے بعد پنڈت جی نے کچھ کپڑا خریدا اور گھر کو چلے آئے اور وہ ظالم بھی ساتھ تھا۔پنڈت جی چار پائی پر جا بیٹھے اور رشی دیانند کے جیون چرتر کے کاغذات مکمل اور مرتب کرنے میں مشغول ہو گئے اور سفاک بھی بائیں طرف بیٹھ گیا عین اس وقت جب پنڈت جی نے تھکاوٹ کے سبب اُٹھ کر