معجزات القرآن — Page 53
”“ اردو میں ہے) پر سورۃ فاتحہ کے متعلق ایک عجیب بات کہی ہے فرماتے ہیں:۔وو ” سورۃ فاتحہ سے ایک عزت کا خطاب مجھے عنایت ہوا ہے۔وہ کیا ہے اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔103 (اعجاز لمسیح۔روحانی خزائن جلد 18 صفحہب) آپ کے یہ الفاظ دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ اس پہلو سے بھی سورۃ فاتحہ کا عددی جائزہ لینا چاہئے۔شاید اس میں بھی کوئی معرفت مخفی ہو۔چنانچہ بسم اللہ سے شمار کیا تو أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے کلمات پر پورے 5980 کے اعداد سامنے آگئے اور یہ وہی اعداد ہیں جو حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کے بعد آپ کے سن پیدائش کو ظاہر کرتے ہیں۔عددی تفصیل ملاحظہ ہو۔بِسْمِ اللهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيم از الْحَمْدُ تا المُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ 786 788 = 3385 = 1807 5980 = میزان پھر عجیب بات یہ ہے کہ ان اعداد سے اگر الحمد للہ کے اعداد جو 179 ہیں خارج کر دیئے جائیں تو پھر آپ کی پیدائش کا سن شمسی جو 5801 ہے سامنے آجاتا ہے۔ہم یہ بتا چکے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت تک سشمسی اور قمری سن میں 142 سال کا فرق واقع ہوا تھا جو الحد کے اعداد 71 سے دوگنا ہے۔اب ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ عمر دنیا جو 7113 سال ہے، کے خاتمہ پر کس قدر تفاوت واقع ہوگا۔ظاہر ہے کہ ہر صدی میں تین سال کا تفاوت واقع ہوتا ہے۔لہذا 71 صدیوں میں 213 سال کا تفاوت واقع ہوگا۔اور عمر دنیا بحساب سمسی پورے 6900 سال کی صورت میں ہمارے سامنے آئے گی اور یہ 213 کا جو تفاوت ہے یہ “ 104 تین الحد کے اعداد کے برابر ہے۔یہ تین العہ قرآن شریف کی سورۃ بقرہ ،سورۃ آل 9966 عمران اور سورۃ اعراف میں آئے ہیں۔سورہ اعراف میں ”حرف ”ص“ بھی موجود ہے جس کے اعداد 90 ہیں اور عجیب بات ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام سے لے کر قیامت تک شمسی اور قمری حساب میں جو تفاوت واقع ہوا وہ پورا 90 سال ہے یعنی حرف ص “ کے اعداد کے برابر ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام کے وقت 123 سال کا تفاوت واقع ہو چکا تھا۔بعد میں جب 90 سال کا اضافہ ہوا تو یہ تفاوت 213 تک جا پہنچا۔66 قرآن شریف کے شروع میں سورۃ یونس سے پہلے جو حروف مقطعات آئے ہیں ان کی اصل عددی قیمت 303 ہے جن میں تین العد آدم کی پیدائش سے لے کر قیامت تک واقع ہونے والے شمسی قمری حساب کے تفاوت کو ظاہر کرتے ہیں اور 90 کا عدد ان کے متوازی واقع ہو کر 123 سال کو الگ کر دیتا ہے۔لہذا حرف ص“ کا مقام حساب منہی میں مدد دیتا ہے اور ساتھ ہی یہ حرف ہمیں یہ بھی سمجھاتا ہے کہ وہ شخص جو اسم احمد کی کامل تجلی کا مظہر ہے اُس کی پیدائش پر یہ تفاوت آدم علیہ السلام سے لے کر اُس کی پیدائش کے وقت تک 180 تک جا پہنچے گا اور یہ 180 کا عدد 90 کے عدد سے دو گنا ہوگا۔لہذا ان ابتدائی حروف مقطعات کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ ہمیں سمجھاتے ہیں کہ عمر دنیا کتنی ہے؟ اور یہ کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش تک 123 سال کا تفاوت واقع ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال پر 142 سال کا تفاوت واقع ہوا اور بانی سلسلہ احمدیہ کی پیدائش پر 179 سال کا تفاوت واقع ہوا اور یوم آخرت تک 213 سال کا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے لے کر آخرت تک 90 سال کا تفاوت واقع ہوگا۔اس حساب سے ظاہر ہے کہ دنیا کی کل عمر بحساب قمری 7113 سال ہے اور بحساب شمسی پورے 6900 سال ہے اس کیفیت