معجزات القرآن

by Other Authors

Page 52 of 126

معجزات القرآن — Page 52

“ 101 سورۃ العصر نے ہمیں سمجھایا تھا کہ آپ کا سن پیدائش غلام الحمد للہ کے اعداد 1250 میں مضمر ہے۔ظاہر ہے کہ 1250 کے بعد باقی 1123 کے اعداد ہمارے سامنے آنے چاہئیں اور ان اعداد کو ظاہر کرنے کے لئے ہمیں ایسے کلمات استعمال کرنے چاہئیں جن کو غلام الحمد للہ کے کلمات سے پوری طرح مناسبت ہو۔سو وہ کلمات ”حمد غلام ہیں۔لفظ حمد کے عدد 52 ہیں اور لفظ غلام کے 1071۔ان دونوں کا میزان 1123 ہے اور جب ان اعداد کو 1250 میں جمع کیا جائے تو پورے 2373 سال ہمارے سامنے آتے ہیں اور اس طرح ملت اسلامیہ کی مجموعی عمر ہمارے سامنے آجاتی ہے۔آپ اگر چاہیں تو اس کیفیت کو ذیل کے کلمات میں بھی ظاہر کر سکتے ہیں۔غلام - الر- غلام اس کیفیت میں الر کے اعداد الحمد لله 179 اور حمد 52 کے اعداد کے جامع ہیں یعنی 231 ہیں۔نیز اگر آپ چاہیں تو اسی کیفیت کو غلام۔ابوبکر غلام کے کلمات میں بھی ادا کر سکتے ہیں۔اس موقع پر آپ ضرور کہیں گے کہ قرآن شریف میں تو ابوبکر کا کہیں نام تک بھی نہیں ہے پھر آپ کو کیا حق ہے کہ اس نام سے کوئی استنباط کریں۔اس سوال کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق کا نام حضرت جبریل کا سند یافتہ ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب جبریل علیہ السلام نے خدا تعالیٰ کا یہ پیغام پہنچایا کہ آج رات مکہ چھوڑ جاؤ تو اس پر حضور نے فرما یا مَن يُصحبنی یعنی میرا ساتھی کون ہوگا تو جبریل علیہ السلام نے جواب دیا ابوبکر۔یہ کیفیت اس موقع پر ہم نے اس غرض سے پیش کی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دو غلاموں کے بارے میں جو بشارت دی گئی تھی وہ دراصل حضرت “ 102 ابراہیم کے نام کے پردے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تھی اور آپ کو بتایا گیا تھا کہ جس طرح حضرت ابراہیم کا بیٹا اسماعیل علیہ السلام غلام حلیم تھا اور اسحاق علیہ السلام غلام علیم تھا اسی طرح آپ کی اُمت کے بھی دو حصے ہیں۔پہلا حصہ غلام حلیم کا وارث ہے اور دوسرا حصہ غلام علیم کا چنانچہ عملاً یہی ہوا کہ 1300 سال تک غلام علیم کی نسل ملت کی راہنمائی کرتی رہی۔اس زمانے میں 12 مجدد آئے اس کے بعد ملت اسلامیہ غلام علیم کی طرف منتقل ہو گئی اور یہ وہی صورت ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش آئی یعنی 13 سال تک آپ مکہ میں رہے۔اس شہر کے باشندے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد تھے اس کے بعد آپ یہود کے شہر یثرب میں تشریف لے آئے۔جو اہل کتاب تھے اور حضرت اسحاق علیہ السلام کی نسل سے تھے ، حضرت اسحاق علیہ السلام غلام علیم تھے۔اصل بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وارث تھے۔لہذا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دونوں بیٹوں کی خوبیاں حضور کی طرف منتقل ہوگئیں۔حضور کا وجود جامع علم وحلم تھا۔اور پھر یہی دونوں خوبیاں امت کی طرف منتقل ہوئیں۔حلم کی صفت حضور کے جاں نثار غلام ابوبکر صدیق کی وساطت 66P سے اسلام کی نشاۃ اولیٰ کی طرف منتقل ہوئی اور علم کی صفت حضور کے غلام احمد “ کی وساطت سے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی طرف منتقل ہوئی۔لفظ غلام اور احمد کی ترکیبی کیفیت دو حیثیتیں رکھتی ہے۔ایک اضافی اور دوسری توصیفی۔اضافی کیفیت کے اعتبار سے آپ حضرت احمد مکی کے غلام ہیں اور امتی ہیں اور توصیفی ترکیب کی حیثیت سے آپ ایک ایسے غلام ہیں جو اپنے احمد کی سب سے بڑھ کر حمد کرنے والے ہیں۔اس جہت سے آپ نبی ہیں۔حضرت بانی جماعت احمدیہ نے اپنی کتاب "اعجاز مسیح “ کے آخری صفحہ (جو 66