معجزات القرآن

by Other Authors

Page 54 of 126

معجزات القرآن — Page 54

”“ 105 سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن شریف میں سب سے پہلے الف، لام، میم کے حروف رکھ کر اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ عمر دنیا بحساب اوسط حرف لام کے 30 اور حرف میم کے عدد 40 یعنی کل 70 صدیاں ہیں اور بحساب شمسی ستر منفی ایک 69 ہیں اور بحساب قمری 70 + 1 = 71 صدیاں ہیں اور جو 13 سال زائد ہیں وہ نا قابل التفات ہیں۔نیز یہ کہ عمر ملت محمدیہ جو بحساب قمری 2373 سال ہے اور جسے غلام الحمد للہ اور حمد غلام کے حروف ظاہر کرتے ہیں وہ بحساب شمسی 2302 سال ہے جے غلام الحمد لله اور حمد غ“ کے حروف ظاہر کرتے ہیں گو یا لفظ غلام سے الد کے حروف گر جاتے ہیں۔66 اس موقع پر یہ امر قابل ذکر ہے کہ سوۃ فاتحہ نے جو ہمیں 2373 کے اعداد دیئے ہیں اگر انہیں سن ہجرت نبوی سے شروع کیا جائے تو اس صورت میں ملتِ اسلامیہ کی عمر ہمارے سامنے آئے گی۔کیونکہ سورۃ فاتحہ کے حساب کا ابتدائی نقطہ سن ہجرت ہے جیسا کہ لفظ ”غیر “ اور حرف ص نے ہمارے سامنے 1300 سال پیش کئے اور اس کے بعد اچھی نا کا کلمہ رکھ کر ہمیں بتایا ہے کہ چودھویں صدی امام مہدی علیہ السلام کی صدی ہے۔لہذا ظاہر ہے کہ سورۃ فاتحہ کے حساب کی بنیا دسن ہجری پر ہے۔اس کے برعکس اگر دنیا کی عمر کا حساب لگانا ہوتو پھر 2373 کے اعداد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سن وصال سے شروع ہوں گے کیونکہ سورۃ العصر کے اعداد میں ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سن وصال دکھایا گیا ہے اور یہ طریق اس لئے اختیار کیا گیا ہے تا ظاہر ہو کہ عمر دنیا کے آخری دس سال محمدی اور احمدی انوار سے خالی ہیں اور یہ کہ یہ زمانہ دس سال کا تباہ کن عذاب کا ہے جس کا نتیجہ یا تو قیامت کبری ہوگی یا قیامت صغریٰ۔بہر حال ایک انقلاب عظیم بر پا ہوگا جس کی کیفیت کا علم اللہ تعالیٰ “ ہی کو ہے۔106 خلاصہ یہ کہ ملت اسلامیہ کی عمر بحساب شمسی سن ہجرت کے بعد 2302 سال ہے اور دنیا کی عمر بھی حضور کے سنِ وصال کے بعد 2302 سال ہے اور حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت کے بعد پورے 2300 سال ہے۔اس کیفیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دوسالہ خلافت کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا یہ دوسال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تریسٹھ سالہ عمر کے ساتھ ایک تتمہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سورۃ فاتحہ کے بقیہ کلمات جو حروف مقطعات کا ماخذ نہیں ہیں ان کی کیا حیثیت ہے سو اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ہم یہ پہلے بتا چکے ہیں کہ سورۃ یونس سے ماقبل کے حروف مقطعات کی حیثیت دوطرفہ ہے۔ان حروف کی عددی قیمت 303 ہے۔لہذا یہ حروف جو الھد۔المد اور البص ہیں اگر سورۃ فاتحہ کی بسم اللہ کے بعد رکھے جائیں تو پھر ذیل کے کلمات کی صورت میں عمر دنیا ہمارے سامنے آجائے گی یعنی :۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ الَمَ - الم - المَصَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ۔غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ لیکن یہ صورت بظاہر بے معنی معلوم ہوتی ہے سو اس خامی کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں کچھ ایسے بامعنی کلمات رکھ دیئے ہیں جن کی عددی قیمت 303 ہے۔وہ کلمات حسب ذیل ہیں:۔مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ اِهْدِنَا اب ان کلمات کو اگر بسم اللہ کے بعد رکھا جائے تو پھر ایک نہایت لطیف اور جمیل