معجزات القرآن

by Other Authors

Page 109 of 126

معجزات القرآن — Page 109

”“ کوہ صیون ہے پہنچایا جائے گا۔215 (یسعیاہ باب 17 آیت : 12 تا 14 - باب 18 آیت 2,3,7) اس حوالے میں کوش کے پار جو ملک بتایا گیا ہے اس سے مراد ہندوستان ہے کسی زمانہ میں یہ کوش جس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اسلاف بھی تشریف لائے ہندوستان کا ایک صوبہ تھا۔بائبل کی کتاب آستر کی پہلی اور دوسری آیت میں اسی کوش کو ہندوستان کا صوبہ دکھایا گیا ہے اور اسی کوش اور ہندوستان کے درمیان کوہ ”ہند۔و کوش حد فاصل بنا ہوا ہے۔لہذا معلوم ہوا کہ اس حوالے میں جس وجود کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے اس نے ہندوستان میں پیدا ہونا تھا۔اور پھر آگے اسی حوالے میں اُس صوبے کی بھی تعین کر دی گئی ہے کہ جس صوبے میں اس نے پیدا ہونا تھا اور بتایا گیا ہے کہ جس کی زمین ندیوں میں منقسم ہے۔گویا مراد پنجاب ہے اور پہاڑوں پر جھنڈا کھڑا کئے جانے کی علامت بھی نہایت عجیب ہے۔اب قادیان ثانی یعنی ربوہ جہاں آباد ہوا ہے وہ پہاڑیوں کی سرزمین ہے اور فلسطین میں جماعت احمد یہ کا مرکز جبل الكرمل یعنی کو ہ کرمل پر ہے اور کرمل سے مراد کرم اللہ یا کرم ایل یعنی اللہ کا کرم ہے۔اور یہ وہ علاقہ ہے جہاں صیہونیت کا تسلط ہے۔اس کے بعد اب حضرت زکریا نبی کی پیشگوئی بھی ملاحظہ ہو۔آپ فرماتے ہیں:۔ایک دن ایسا آئے گا جو خداوند ہی کو معلوم ہے۔وہ نہ دن ہوگا نہ رات لیکن شام کے وقت روشنی ہوگی اور اُس روز یروشلم سے آب حیات جاری ہوگا جس کا آدھا بحر مشرق کی طرف بہے گا اور آدھا بحرِ مغرب کی طرف۔گرمی سردی میں جاری رہے گا اور خداوند ساری دنیا کا بادشاہ ہوگا اور اس کا نام واحد ہوگا“۔زکریا باب: 14 آیت : 7 تا 9) اس پیشگوئی میں جس یروشلم کا ذکر ہے اس سے مراد حضرت مسیح موعود علیہ السلام “ 216 کا شہر قادیان ہے جیسے کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتاب نزول مسیح میں اس کے متعلق صراحت فرمایا ہے کہ اس سے مراد قادیان ہے اور یہ تأویل ایک ایسی تأویل ہے کہ جس کی صحت کا ثبوت اسی کتاب زکریا کے ایک دوسرے حوالے سے ملتا ہے اور وہ حوالہ یہ ہے: وو رب الافواج فرماتا ہے اسے تلوار تو میرے چرواہے یعنی اس انسان پر جو میرا رفیق ہے بیدار ہو چرواہے کو مار کہ گلہ پراگندہ ہو جائے اور میں چھوٹوں پر ہاتھ چلاؤں گا۔اور خداوند فرماتا ہے سارے ملک میں دو تہائی قتل کئے جائیں گے اور مریں گے لیکن ایک تہائی بیچ رہیں گے اور میں اس تہائی کو آگ میں ڈال کر چاندی کی طرح صاف کروں گا اور سونے کی طرح تاؤں گا وہ مجھ سے دعا کریں گے اور میں ان کی سنوں گا میں کہوں گا یہ میرے لوگ ہیں اور وہ کہیں گے خداوند ہی ہمارا خدا ہے۔66 (زکریا باب 13 آیت 7 تا 9) اس حوالے میں اُن تمام فتنوں کی طرف اشارہ ہے جو آج تک مسلمانوں کی خون ریزی کیلئے اٹھائے گئے ہیں جن میں وہ فسادات خاص طور پر شامل ہیں۔جو 1947ء میں رونما ہوئے اور جو مسلمانوں کے خلاف انگریزوں ہندوؤں اور سکھوں کی باہمی سازش کا نتیجہ تھے ، ان فسادات کی طرف اشارہ کرنے والے اسی نبی زکریا کے ذیل کے الفاظ بھی ملاحظہ ہوں : وو دیکھو خداوند کا دن آتا ہے جب تیرا مال لوٹ کر تیرے اندر بانٹا جائے گا کیونکہ میں سب قوموں کو فراہم کروں گا کہ یروشلم ( یعنی مسیح موعود کے شہر ) سے جنگ کریں اور شہر لے لیا جائے گا۔اور گھر لوٹے جائیں گے اور عورتیں بے حرمت کی جائیں گی اور آدھا شہر اسیری میں